Showing posts with label Manuscripts. Show all posts
Showing posts with label Manuscripts. Show all posts
پاکستانی لبرل دھشتگرد
12:14 AM
| By
Think-Pk
|
پاکستانی لبرل دھشتگرد
جب بھی بارش ہونے والی ہوتی ہے، ایک پرندہ اڑتا ہے- اس پرندے کو پنجاب میں ٹٹیری کہتے ہیں اور بھی کچھ نام ہیں اس کے- یہ پرندہ رات کو سوتے ہوئے اپنی ٹانگیں اوپر کر کے سوتا ہے- پتا کیوں؟ اسکو لگتا ہے کہ اس نے آسمان سر پر اٹھایا ہوا ہے اگر یہ سو گیا تو آسمان گر پڑے گا- اسی طرح ہمارے ملک میں دہشت گردی اور انتہا پسندی سے لڑنے والا اصل فریق پاکستانی عوام ہیں- لیکن ماروی سرمد، عاصمہ جہانگیر اور ان جیسے باقی خود ساختہ لبرل جو مذہب کا مذاق اڑاتے ہیں انکی فکری ٹانگیں بھی اوپر ہوتی ہیں سوتے ہوئے کیونکہ وہ بھی یہی سمجھتے ہیں کہ انہوں نے انتہا پسندی سے ٹکر لے رکھی ہے- وہ پاکستانی معاشرے میں دھشتگردوں سے لڑ رہے ہیں ایسا لگتا ہے ان کو-
اب آپ کو بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ایسے لوگ کیا کرتے ہیں، کیوں کرتے ہیں، خود کو کیا سمجھتے ہیں اور در حقیقت کیا ہیں- صرف تین معاملات ہیں جہاں ہمارے لبرلز کی دم کھڑی ہوتی ہے اور وہ اس پر ناچنا شروع کر دیتے ہیں- ایک جب کوئی لڑکی گھر سے بھاگ کر شادی کر لے، دو جب کسی بھٹکے ہوئے مسلمان کے انفرادی عمل کی وجہ سے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنا ہو اور تین جب پاک فوج یا پاکستان کو گالی دینی ہو- کچھ اور ضمنی علامات بھی ہیں ان لوگوں کی، مثال کے طور پر نظریہ پاکستان سے نفرت، بھارت سے محبت، مذہب کو تمام مسائل کے لئے ذمہ دار ٹھہرانا، مادر پدر آزادی چاہنا- ہر وہ کام جو ہماری روایات کے خلاف ہو صرف وہی روشن خیالی کی نشانی لگنا-
یہاں پر کچھ باتیں واضح کرنا بہت ضروری ہے- لڑکی اور لڑکے کا اپنی پسند سے شادی کرنا اور گھر والوں کا زبردستی نہ کرنا یہ ایک ایسا حق ہے جو اسلام نے ان کو دیا ہے- اگر ہماری معاشرتی روایات میں خرابی ہے تو اس کے لئے مذہب کو ذمہ دار ٹھہرانا درست نہیں- اسی طرح غلط کام کوئی بھی کرے غلط ہے، ضروری نہیں ہے کہ ہماری ہر غلطی کے پیچھے مذہب ہی وجہ ہو، مذہب کی ناکافی سمجھ بھی بعض اوقات وجہ ہو سکتی ہے- آرمی میں بھی بہت غلطیاں ہوں گی، لیکن اچھائیاں بھی تو ہوں گی؟ لبرل حضرات! پاکستان میں سب سے زیادہ تنوع اور مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو برداشت کرنے کی روایت پاک فوج میں ہے- دہشت گردی کے خلاف اصل جنگ فوج ہی لڑ رہی ہے- آپ کو تو جب رواداری کا مطلب بھی نہیں پتا تھا تب سے فوج اس روایت پر عمل پیرا ہے-
اور اب بات ہو جائے اس جنگ کے سب سے بڑے فریق یعنی عوام کی- دہشت گردوں نے پورے ملک میں حملے کئے، لوگوں کو کہا کہ ووٹ نہ ڈالیں، عوام نے کیا کیا؟ پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے ٹرن آوٹ میں سے ایک ملا اس بار- ان عوام نے آج تک ملکی سطح پر کسی ایسی جماعت کو اکثریت نہیں دلائی جو انتہا پسند ہوں، جو مذہب کو استعمال کر کے مذہب کے خلاف اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزی کی بات کریں- ہمارے ہمسایے اور لبرل انتہا پسندوں کے روحانی پیشوا سیکولر بھارت میں ایک نہیں کئی بار بی جے پی جیسی مذھبی انتہا پسند جماعتیں اکثریت بھی لے چکی ہیں اور حکومت بھی بنا چکی ہیں-
ہمارا ملک دو فکری محازوں میں پس رہا ہے- ایک طرف اسلام کا نام استعمال کر کے دهشت گردی کرنے والے، دوسری طرف اسلام کو ہر چیز کے لئے ذمہ دار ٹھہرانے والے- دونوں کا مقصد ایک ہی ہے- اسلام کو بدنام کرنا، اسلام کے اصل پیغام کو مجروح کرنا، ہماری اچھی معاشرتی روایات کو بھی معدوم کرنا، پوری دنیا کے سامنے مسلمانوں کو متشدد ثابت کرنا، پاکستان کو نقصان پہنچانا، بھارت کے سامنے قوم کو احساس کمتری میں مبتلا کرنا، فوج کو کمزور کرنا اور لوگوں کو مذہب سے متنفر کرنا- کتنی حیران کن بات ہے؟ بظاھر دو متضاد سوچیں؟ اور عزایم کتنے مشترکہ؟ آیندہ کسی بھی مذہبی دہشتگرد یا لبرل دہشتگرد کی باتیں سنتے ہوئے ان نکات پر ضرور غور کیجئے گا- کہیں ان دونوں کی اصل ایک ہی تو نہیں؟ ان دونوں کو پیسے اور میڈیا کوریج دینے والے ایک ہی نہیں؟
اب آپ کو بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ایسے لوگ کیا کرتے ہیں، کیوں کرتے ہیں، خود کو کیا سمجھتے ہیں اور در حقیقت کیا ہیں- صرف تین معاملات ہیں جہاں ہمارے لبرلز کی دم کھڑی ہوتی ہے اور وہ اس پر ناچنا شروع کر دیتے ہیں- ایک جب کوئی لڑکی گھر سے بھاگ کر شادی کر لے، دو جب کسی بھٹکے ہوئے مسلمان کے انفرادی عمل کی وجہ سے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنا ہو اور تین جب پاک فوج یا پاکستان کو گالی دینی ہو- کچھ اور ضمنی علامات بھی ہیں ان لوگوں کی، مثال کے طور پر نظریہ پاکستان سے نفرت، بھارت سے محبت، مذہب کو تمام مسائل کے لئے ذمہ دار ٹھہرانا، مادر پدر آزادی چاہنا- ہر وہ کام جو ہماری روایات کے خلاف ہو صرف وہی روشن خیالی کی نشانی لگنا-
یہاں پر کچھ باتیں واضح کرنا بہت ضروری ہے- لڑکی اور لڑکے کا اپنی پسند سے شادی کرنا اور گھر والوں کا زبردستی نہ کرنا یہ ایک ایسا حق ہے جو اسلام نے ان کو دیا ہے- اگر ہماری معاشرتی روایات میں خرابی ہے تو اس کے لئے مذہب کو ذمہ دار ٹھہرانا درست نہیں- اسی طرح غلط کام کوئی بھی کرے غلط ہے، ضروری نہیں ہے کہ ہماری ہر غلطی کے پیچھے مذہب ہی وجہ ہو، مذہب کی ناکافی سمجھ بھی بعض اوقات وجہ ہو سکتی ہے- آرمی میں بھی بہت غلطیاں ہوں گی، لیکن اچھائیاں بھی تو ہوں گی؟ لبرل حضرات! پاکستان میں سب سے زیادہ تنوع اور مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو برداشت کرنے کی روایت پاک فوج میں ہے- دہشت گردی کے خلاف اصل جنگ فوج ہی لڑ رہی ہے- آپ کو تو جب رواداری کا مطلب بھی نہیں پتا تھا تب سے فوج اس روایت پر عمل پیرا ہے-
اور اب بات ہو جائے اس جنگ کے سب سے بڑے فریق یعنی عوام کی- دہشت گردوں نے پورے ملک میں حملے کئے، لوگوں کو کہا کہ ووٹ نہ ڈالیں، عوام نے کیا کیا؟ پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے ٹرن آوٹ میں سے ایک ملا اس بار- ان عوام نے آج تک ملکی سطح پر کسی ایسی جماعت کو اکثریت نہیں دلائی جو انتہا پسند ہوں، جو مذہب کو استعمال کر کے مذہب کے خلاف اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزی کی بات کریں- ہمارے ہمسایے اور لبرل انتہا پسندوں کے روحانی پیشوا سیکولر بھارت میں ایک نہیں کئی بار بی جے پی جیسی مذھبی انتہا پسند جماعتیں اکثریت بھی لے چکی ہیں اور حکومت بھی بنا چکی ہیں-
ہمارا ملک دو فکری محازوں میں پس رہا ہے- ایک طرف اسلام کا نام استعمال کر کے دهشت گردی کرنے والے، دوسری طرف اسلام کو ہر چیز کے لئے ذمہ دار ٹھہرانے والے- دونوں کا مقصد ایک ہی ہے- اسلام کو بدنام کرنا، اسلام کے اصل پیغام کو مجروح کرنا، ہماری اچھی معاشرتی روایات کو بھی معدوم کرنا، پوری دنیا کے سامنے مسلمانوں کو متشدد ثابت کرنا، پاکستان کو نقصان پہنچانا، بھارت کے سامنے قوم کو احساس کمتری میں مبتلا کرنا، فوج کو کمزور کرنا اور لوگوں کو مذہب سے متنفر کرنا- کتنی حیران کن بات ہے؟ بظاھر دو متضاد سوچیں؟ اور عزایم کتنے مشترکہ؟ آیندہ کسی بھی مذہبی دہشتگرد یا لبرل دہشتگرد کی باتیں سنتے ہوئے ان نکات پر ضرور غور کیجئے گا- کہیں ان دونوں کی اصل ایک ہی تو نہیں؟ ان دونوں کو پیسے اور میڈیا کوریج دینے والے ایک ہی نہیں؟
اس کالم کے مخاطب نہ تو مذہب کے نام پر دہشت گردی کرنے والے ہیں اور نہ ہی روشن خیالی کے نام پر- اس کالم کے مخاطب مجھ جیسے، آپ جیسے عوام ہیں- وہ عام لوگ ہیں جو ان لوگوں کے بہکاوے میں آ کر دین کو نقصان پہنچانے پر تل جاتے ہیں- خدا کے لئے تھوڑا سا سوچئے اور سمجھئے، یہ دونوں ایک ہیں، صرف طریقہ کار مختلف ہیں-اور اب اس کالم کی آخری بات پر ذرا غور کیجیے گا اور آئندہ جب بھی یہ آپ کو بہکانے کی کوشش کریں تو ان لوگوں کو یہ بتایئے گا- دین اور لا دینیت کے ٹھیکیداروں سے بڑی عاجزی سے ایک گزارش ہے- میں ایک عام پاکستانی مسلمان ہوں- مذھب کے نام پر معصوم لوگوں کو قتل کرنے والوں سے ہزار گنا زیادہ مذہبی اور ماروی سرمد اور عاصمہ جہانگیر جیسے لبرل لوگوں سے لاکھوں گنا زیادہ روشن خیال ہوں- کیا آپ دونوں ہماری جان چھوڑ سکتے ہیں؟ عین نوازش ہو گی-
Labels:Manuscripts
حکمرانوں کو ٹھیک کرنے کا طریقہ
4:21 AM
| By
Think-Pk
|
حکمرانوں کو ٹھیک کرنے کا طریقہ
ہماری قوم کے کافی بڑے بڑے سکالرز ایک بات اکثر دوہراتے رہتے ہیں- "جیسے عوام ویسے حکمران"- جب تک عوام ٹھیک نہیں ہوں گے حکمران بھی ٹھیک نہیں ہوں گے- کتنی پیاری بات ہے؟ کتنی گہری بات ہے نا؟ اتنی ہی پیاری ہے یہ بات جتنی ہمارے ملک کی سیاست- افیون کی گولی ہے- زہر کی پڑیا ہے- ظلم ہے اور افسوس ہے کہ کوئی بھی اس پر غور نہیں کرتا، بس اندھا دھند جو کسی نے که دیا اس کے پیچھے لگ جاتے ہیں ہم لوگ- ویسے بھی یہ ہمارے ملک کے بڑوں کے فائدے کی بات ہے- نہ نو من تیل ہو گا نہ رادھا ناچے گی- اور یہ بات کر کہ سارا الزام عوام بیچاری کے سر آ جاتا ہے اور ظالم حکمران معصوم ثابت ہو جاتے ہیں-
مزید سنئے، عوام کو ووٹ دینے کی کوئی ضرورت نہیں، دینا بھی ہے تو جس کو مرضی دے دیں، کوئی فرق نہیں پڑتا، فرق تو تب پڑے گا جب عوام ٹھیک ہو گی- ہے نا؟ حکمران لوٹ مار کریں تو عوام ہی ساری چور ہے، حکمران کام نہ کریں تو عوام ہی ساری نکمی ہے، حکمران دھوکہ دیں، اپنی ہی کہی ہوئی باتوں سے یہ کہ کر مکر جائیں کہ وعدے کوئی قرآن یا حدیث نہیں ہوتے یا یہ که کر کہ جی وہ تو سب جوش خطابت تھا، تب بھی انکا کوئی قصور نہیں، قصوروار اب بھی بیچاری عوام کیونکہ عوام تبدیل ہوں گے تو حکمران خود بخود ٹھیک ہو جائیں گے- ہیں جی؟ ہے نا مزے کی بات؟ کس خوبصورتی سے یہ بات حکمرانوں کو ہر الزام سے بچا کر لے جاتی ہے؟ ایسے جیسے مکھن میں سے بال-
یار لوگ اکثر سناتے ہیں، خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی جسکو خود اپنی حالت کے بدلنے کا خیال نہ ہو- اور یہ بھی کہ انسان کے لئے وہی کچھ ہے جس کے لئے وہ کوشش کرتا ہے- بالکل درست باتیں ہیں- جس قوم کو اپنے حکمران خود بدلنے کا خیال نہ ہو، جو جھوٹے، لٹیروں اور چوروں کو برداشت کرتی رہے، اس کے حکمران کب تبدیل ہوں گے؟ جو انسان کوشش ہی نہیں کرتا تبدیلی کے لئے، اسکے حالات کیسے تبدیل ہوں؟ جو قوم اپنے حکمرانوں کی ہر غلطی کو نظر انداز کرتی جائے یہ که کر کہ جب تک قوم تبدیل نہ ہو کچھ تبدیل نہیں ہو سکتا، وہاں کچھ کیسے ٹھیک ہو گا؟ میرے بھائی اگر قوم کو اپنے حکمران ایماندار، سچے اور قابل لوگ منتخب کرنے کا خیال آ جائے تو یہ بیچاری قوم تبدیل ہی تو ہو رہی ہے- اب آپ کو یہ بتانے کی کوشش کرتا ہوں کہ حکمران کا درست ہونا کیوں ضروری ہے-
فرض کریں ایک یونیورسٹی ہے، اس کے وائس چانسلر صاحب سائیکل پر پوری یونیورسٹی میں گھومنا پھرنا شروع کر دیں تو کیا ہو گا؟ سب پروفیسر صاحبان بھی سائیکل چلانا شروع کر دیں گے، ان کی دیکھا دیکھی سب طلبہ بھی- پھر لوگ دس میٹر کے فاصلے پر بھی گاڑی پر جانا بند کر دیں گے- سائیکل چلاتے ہوئے شرم آنا بند ہو جائے گی، صحت بھی بہتر ہوگی، آلودگی بھی کم اور پٹرول کی بھی بچت- فرض کریں ملک کا وزیر اعظم سادہ شلوار قمیض میں بغیر کسی پروٹوکول کے آتا جاتا نظر آۓ تو کیا کسی وزیر کی جرات ہو گی کہ وہ پروٹوکول کے مزے لے؟ یا کسی بھی سرکاری ملازم کی؟ مزید سوچیے، امریکا جیسا ملک، ہر گناہ عام، پھر بھی انکے صدر کو عدالت میں پیش ہونا پڑا قوم سے جھوٹ بولنے پر حالانکہ انکی پوری قوم وہی کام کھلے عام کرتی ہے، جی ہاں بل کلنٹن اور مونیکا لیونسکی کی بات ہو رہی ہے- سی آئی اے جیسی ایجنسی کا سربراہ اسکو وہ کرنے پر مستعفی ہونا پڑے جو انکی قوم میں ایک عام بات ہے- کیوں؟ اس لئے کہ حکمران مثال ہوتے ہیں عوام کے لئے، نمونہ ہوتے ہیں، رول ماڈل ہوتے ہیں، انکا اچھا ہونا قوم کے اچھا ہونے سے بھی زیادہ ضروری ہوتا ہے-
اور اب سب سے آخری بات جس کے بعد شاید کسی اور مثال کی ضرورت نہ پڑے، میرے پیارے نبی صل الله الیہ واسلم نے جب مکہ میں دعوت اسلام کا کام شروع کیا تھا تو کتنے مسلمان تھے وہاں؟ انہوں نے تو قوم کے تبدیل ہونے کا انتظار نہیں کیا، انہوں نے تو یہ نہیں کہا کہ جیسی قوم ویسے حکمران، انھوں نے اپنے کردار، ایمانداری، صداقت، جذبے، الله کی مدد اور ایمان کی طاقت سے عرب وحشیوں کو انسان بنا دیا-
آج ہمیں ایک ایسے لیڈر کی ضرورت ہے جو قوم کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو، جو سٹیٹس کو کا محافظ نہ ہو، جو لوگوں کی زندگیاں بدل دے، انھیں ٹرانسفارم کر دے، اور قوم کو کیا کرنا چاہیے؟ "جب تک قوم تبدیل نہیں ہو گی، کچھ تبدیل نہیں ہوگا" کا راگ الاپنا چھوڑ کر ایسے لیڈر کا ساتھ دینا چاہیے- ایسے لیڈر جو لوگوں کو تبدیل کر دیں قوموں کو صدیوں میں ملتے ہیں، خوش قسمت ہوتی ہیں وہ قومیں جو ان سے فائدہ اٹھا لیں اور بد قسمت ہوتی ہیں وہ قومیں جو انھیں کھو دیں- میں کسی کا نام نہیں لوں گا، اپنے آس پاس دیکھیں، کوئی ایسا لیڈر ہے جس نے قوم میں تبدیلی کی روح پھونک دی ہو؟ جس نے ان لوگوں کو سیاست میں دلچسپی لینے پر مجبور کر دیا ہو جو سیاست کے نام سے چڑتے تھے؟ ہے کوئی ایسا لیڈر آج آپ کے پاس جس نے لوگوں کو اردو میں لکھنے کے لئے گوگل ٹرانسلیٹر استعمال کر کے، اپنی سرکاری نوکری خطرے میں ڈال کر سیاست پر کالم لکھنے پر مجبور کر دیا ہو؟ اگر ہے ایسا کوئی تو اس کو ضایع مت ہونے دیجئے گا- اسکی مدد کریں اور اپنی آئندہ آنے والی نسلوں پر احسان کیجیے- بھرتی کے لیڈرز اور ٹھیکیداروں سے جان چھڑوا لیجئے- لیڈر اور مینیجر کے فرق کو سمجھیں- الله ہمیں دیکھنے والی آنکھ اور سمجھنے والا دماغ عطا فرمائے- آمین-
مزید سنئے، عوام کو ووٹ دینے کی کوئی ضرورت نہیں، دینا بھی ہے تو جس کو مرضی دے دیں، کوئی فرق نہیں پڑتا، فرق تو تب پڑے گا جب عوام ٹھیک ہو گی- ہے نا؟ حکمران لوٹ مار کریں تو عوام ہی ساری چور ہے، حکمران کام نہ کریں تو عوام ہی ساری نکمی ہے، حکمران دھوکہ دیں، اپنی ہی کہی ہوئی باتوں سے یہ کہ کر مکر جائیں کہ وعدے کوئی قرآن یا حدیث نہیں ہوتے یا یہ که کر کہ جی وہ تو سب جوش خطابت تھا، تب بھی انکا کوئی قصور نہیں، قصوروار اب بھی بیچاری عوام کیونکہ عوام تبدیل ہوں گے تو حکمران خود بخود ٹھیک ہو جائیں گے- ہیں جی؟ ہے نا مزے کی بات؟ کس خوبصورتی سے یہ بات حکمرانوں کو ہر الزام سے بچا کر لے جاتی ہے؟ ایسے جیسے مکھن میں سے بال-
یار لوگ اکثر سناتے ہیں، خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی جسکو خود اپنی حالت کے بدلنے کا خیال نہ ہو- اور یہ بھی کہ انسان کے لئے وہی کچھ ہے جس کے لئے وہ کوشش کرتا ہے- بالکل درست باتیں ہیں- جس قوم کو اپنے حکمران خود بدلنے کا خیال نہ ہو، جو جھوٹے، لٹیروں اور چوروں کو برداشت کرتی رہے، اس کے حکمران کب تبدیل ہوں گے؟ جو انسان کوشش ہی نہیں کرتا تبدیلی کے لئے، اسکے حالات کیسے تبدیل ہوں؟ جو قوم اپنے حکمرانوں کی ہر غلطی کو نظر انداز کرتی جائے یہ که کر کہ جب تک قوم تبدیل نہ ہو کچھ تبدیل نہیں ہو سکتا، وہاں کچھ کیسے ٹھیک ہو گا؟ میرے بھائی اگر قوم کو اپنے حکمران ایماندار، سچے اور قابل لوگ منتخب کرنے کا خیال آ جائے تو یہ بیچاری قوم تبدیل ہی تو ہو رہی ہے- اب آپ کو یہ بتانے کی کوشش کرتا ہوں کہ حکمران کا درست ہونا کیوں ضروری ہے-
اور اب سب سے آخری بات جس کے بعد شاید کسی اور مثال کی ضرورت نہ پڑے، میرے پیارے نبی صل الله الیہ واسلم نے جب مکہ میں دعوت اسلام کا کام شروع کیا تھا تو کتنے مسلمان تھے وہاں؟ انہوں نے تو قوم کے تبدیل ہونے کا انتظار نہیں کیا، انہوں نے تو یہ نہیں کہا کہ جیسی قوم ویسے حکمران، انھوں نے اپنے کردار، ایمانداری، صداقت، جذبے، الله کی مدد اور ایمان کی طاقت سے عرب وحشیوں کو انسان بنا دیا-
آج ہمیں ایک ایسے لیڈر کی ضرورت ہے جو قوم کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو، جو سٹیٹس کو کا محافظ نہ ہو، جو لوگوں کی زندگیاں بدل دے، انھیں ٹرانسفارم کر دے، اور قوم کو کیا کرنا چاہیے؟ "جب تک قوم تبدیل نہیں ہو گی، کچھ تبدیل نہیں ہوگا" کا راگ الاپنا چھوڑ کر ایسے لیڈر کا ساتھ دینا چاہیے- ایسے لیڈر جو لوگوں کو تبدیل کر دیں قوموں کو صدیوں میں ملتے ہیں، خوش قسمت ہوتی ہیں وہ قومیں جو ان سے فائدہ اٹھا لیں اور بد قسمت ہوتی ہیں وہ قومیں جو انھیں کھو دیں- میں کسی کا نام نہیں لوں گا، اپنے آس پاس دیکھیں، کوئی ایسا لیڈر ہے جس نے قوم میں تبدیلی کی روح پھونک دی ہو؟ جس نے ان لوگوں کو سیاست میں دلچسپی لینے پر مجبور کر دیا ہو جو سیاست کے نام سے چڑتے تھے؟ ہے کوئی ایسا لیڈر آج آپ کے پاس جس نے لوگوں کو اردو میں لکھنے کے لئے گوگل ٹرانسلیٹر استعمال کر کے، اپنی سرکاری نوکری خطرے میں ڈال کر سیاست پر کالم لکھنے پر مجبور کر دیا ہو؟ اگر ہے ایسا کوئی تو اس کو ضایع مت ہونے دیجئے گا- اسکی مدد کریں اور اپنی آئندہ آنے والی نسلوں پر احسان کیجیے- بھرتی کے لیڈرز اور ٹھیکیداروں سے جان چھڑوا لیجئے- لیڈر اور مینیجر کے فرق کو سمجھیں- الله ہمیں دیکھنے والی آنکھ اور سمجھنے والا دماغ عطا فرمائے- آمین-
I may be contacted at waqaraq@gmail.com
Labels:Manuscripts
فوج کو گالی کیوں؟
5:17 PM
| By
Think-Pk
|
فوج کو گالی کیوں؟
کمزور دل کے منافق، گھٹیا اور بزدل لوگ اس سے آگے نہ پڑھیں- ان کو آگ لگ جائے گی- میں اپنی سخت زبان پر معافی چاہتا ہوں لیکن کبھی کبھار آپکو ایسے الفاظ استعمال کرنے ہی پڑتے ہیں کہ شاید لوگوں کو سمجھ آ جائے- ہماری وہ قوم ہے جس کے کسی بھی بزرگ اور جوان کو کوئی بھی سپاہی تک تھانے میں لے جا کر ننگا کر کے لتر پریڈ کر سکتا ہے- اور یہ قوم بھنگ پی کر سوئی رہتی ہے- پولیس کے سامنے ان لوگوں کی پینٹ گیلی ہو جاتی ہے- اس کی ایک تازہ مثال فیصل آباد میں ہونے والا بے رحمانہ تشدد ہے- بیورو کریسی کا ایک کلرک ان کے جوتے گھسا دیتا ہے چکر لگوا لگوا کر تب تو ان کی غیرت نہیں جاگتی؟ عدالتوں میں تیس تیس سال یہ جانوروں کی طرح ذلیل ہوتے ہیں تب بھی انصاف نہیں ملتا پھر تو کسی کو یاد نہیں آتا کہ جج ہمارے ہی پیسوں پر پل رہے ہیں، کیوں؟ یہ ساری بکواس لوگوں کو صرف تب یاد آتی ہے جب فوج کو الزام دینے ہوں؟
میں خود ایک سویلین ہوں، فوج میں رہا تھا کچھ عرصہ اور کچھ ایسی اچھی یادیں بھی نہیں ہیں، فوج کی اپنی ہی غلط پالیسی کی وجہ سے فوج چھوڑ دی- اس لئے میرا فوج سے کوئی مفاد نہیں ہے- لیکن جو وقت وہاں گزارا اور دیکھا اسکی بنیاد پر کچھ باتیں واضح کرنی بیحد ضروری ہیں- اسی فیصد فوجیوں کے ماں باپ خود سویلین ہوتے ہیں، وہ اپنے ماں باپ کو بلڈی سویلین کہیں گے کیا؟ بغیر فوج کو سمجھے الزام لگا دیا جاتا ہے بلڈی سویلین کہنے کا- فوج پاکستان کا واحد ادارہ ہے جو سو فیصد میرٹ پر لوگوں کو بھرتی کرتا ہے- میرے ساتھ آئی ایس ایس بی میں دو جرنیلوں کے بیٹے مسترد ہوئے تھے- سلیکٹ ہونے والوں میں ایک حوالدار کا اور ایک سویلین کا بیٹا تھا- فوج کے ستر فیصد افسران غریب یا درمیانے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں- اور اسی لئے جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو چبھتے ہیں- ان کے کسی کمی کا بیٹا فوج میں سپاہی بھی بھرتی ہو جائے تو وہ ان کے ڈر اور خوف سے آزاد ہو جاتا ہے-
بڑی منصوبہ بندی کے تحت آھستہ آھستہ عوام کو فوج سے متنفر کیا جا رہا ہے اور دکھ تب ہوتا ہے جب وہی عوام جن کے لئے یہ جان ہتھیلی پر لے کر پھر رہے ہوتے ہیں وہی ان سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے پروپیگنڈہ میں آ کر انکو برا بھلا کہنا شروع کر دیتے ہیں- پھر ان کے پاس سب سے بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ یہ تنخواہ لیتے ہیں، اس لئے مرتے بھی ہیں تو کوئی بات نہیں، میرے بھائی مجھ سے ایک کروڑ لے لو اور اپنی جان دے دو کیا دو گے؟ فوج اسی معاشرے سے بنی ہے، اس معاشرے میں جو برائیاں ہیں وہ ان میں بھی ہیں، فرشتے نہیں ہیں، غلطیاں بھی کرتے ہیں، انسان ہیں، میری اور آپ کی طرح خطا کے پتلے ہیں، لیکن پھر بھی پاکستان جسے معاشرے میں ایک ادارے کے طور پر سب اداروں سے اچھا کام کرتے ہیں-
آپ میں سے جو جو خود کو بہت بہادر سمجھتا ہے فوج کو گالی دے کر، کسی سیاستدان کو دینا یا کسی پولیس والے کو بتانے کی کوشش کرنا کہ تم ہمارے پیسوں پر پل رہے ہو- پھر میری طرف سے فوج کو دس گالیاں دینا، مجھے خوشی ہو گی لیکن کسی کے پروپیگینڈے میں آ کر بھاڑے کا پاگل ٹٹو بن کر اپنی ہی فوج کے خلاف بھونکنے والے کتوں سے بھی بد تر ہیں- فوج پر تنقید ضرور کریں، شوق سے کریں لیکن خلوص کے ساتھ، کچھ لوگوں کی غلطی پر پوری فوج کو برا بھلا نہ کہیں، بہتری کی نیت کے ساتھ مثبت تنقید کریں ، جب بھی سیلاب آتا ہے، زلزلہ آتا ہے یا کوئی آفت آتی ہے تو یہ سارے سول ادارے تو ستو پی کر سو رہے ہوتے ہیں، کون بڑھتا ہے سب سے پہلے قوم کی مدد کے لئے؟ یاد رکھیے گا جو قوم بھارت جیسے ہمسائےکی موجودگی میں اپنے سب سے قیمتی ہتھیار کو خود کند کرنے پر تل جائے تو انکی آیندہ نسلوں میں ہر بچے کے دس ہندو باپ ہوں گے-
Labels:Manuscripts
اپنے ہی قاتلوں کے عشق میں مبتلا قوم
3:07 PM
| By
Think-Pk
|
اپنے ہی قاتلوں کے عشق میں مبتلا قوم
پاکستان میں صرف دو سیاسی جماعتیں ہیں- ایک جاگیرداروں کی اور دوسری سرمایہ داروں کی- نام کسی کا نہیں لوں گا کیونکہ جو مزہ اقرار کا اور تکرار کا اشاروں کنایوں میں ہے وہ کہیں اور کہاں- کچھ ہم ڈرپوک بھی ہیں، نام لیتے ہوئے ڈر لگتا ہے- اس لئے اپنے ڈر کو رومانوی شکل دے کر اپنی بزدلی پر ایک خوبصورت سا پردہ ڈال دینا بہتر ہے- اور نہ جانے کیوں یہ بھی دل چاہ رہا ہے کہ وہ مشہور فقرہ بھی شامل کر دیا جائے، "اس کالم میں تمام نام، مقامات، حالات اور واقعات فرضی ہیں، کسی بھی حقیقی کردار سے مشابہت محض اتفاقیہ ہو گی"-اچھا جی تو اب دیکھتے ہیں یہ دونوں جماعتیں اقتدار میں کیا کرتی ہیں، کیسے کرتی ہیں اور کیوں کرتی ہیں-
جاگیرداروں کی جماعت اقتدار میں آ کر بڑے آرام سے ہفتے میں دو کیا تین چھٹیاں کرنے پر تیار ہوتی ہے، جاگیرداروں کی بلا سے، سرکاری ملازم کام کریں یا نہیں، سب عارضی آسامیوں کو مستقل کر دو، جہاں پچاس لوگوں کی گنجایش ہے وہاں ہزار بھرتی کر لو، نوکریوں کو سیاسی رشوت کے طور پر استعمال کرو، اپنے علاقوں میں کوئی اسکول نہ بننے دو، کوئی ہسپتال بھی نہیں، غریبوں کو بھیک دیں صرف کوئی ہنر نہیں، مہینے کا ہزار بارہ سو روپیہ ان کو ڈال دو، یونین بازی کی حوصلہ افزائ کرو سانو کی؟ سرمایہ دار کا سردرد ہے یہ سب- یونیورسٹیوں میں بھی سٹوڈنٹ یونین بنواؤ یہ غریبوں کے بچے جو اپنی قابلیت کے بل بوتے پر انجینرنگ یونیورسٹی یا میڈیکل کالج تک تو پہنچ گئے ہیں لیکن انہیں نہ سیکھنے دو کچھ نہ پڑھنے دو- انہیں بتاؤ تمہارا علاقہ جو باقی پاکستان سے پیچھے ہے اس کی وجہ یہ صوبہ ہے، وہ علاقہ ہے، اس زبان کے بولنے والے لوگ ہیں، ان کمی کمینوں کو آپس میں لڑاتے رہو اگر انہوں نے آپس میں لڑنا بند کر دیا تو ہماری باری آ جائے گی، انہیں علم مل گیا تو عقل آ جائے گی، پی آی ے میں، ریلوے میں، سٹیل مل میں، پی ٹی سی ایل میں، واپڈا میں ہر جگہ اپنے بندوں سے یونین بنواؤ تا کہ بعد میں پوری قوم اور سرمایہ دار کو بلیک میل کیا جا سکے- مزدوروں کے حقوق کی بات ضرور کرو لیکن کسانوں یا مزارعوں کی غلطی سے بھی نہیں کرنی کیونکہ مزدور سرمایہ دار کی فیکٹری میں نوکری کرتا ہے ہماری زمینوں میں نہیں-
اب بات ہو جائے سرمایہ داروں اور انڈسٹریلسٹ کی جماعت کی- یہ لوگ یونین بازی کے شدید خلاف ہوتے ہیں، جائز مطالبات اور حقوق کے لئے بھی یونین نہیں بننے دیتے، نہ مزدوروں کی نہ سٹوڈنٹس کی نہ کسی اور کی کیونکہ انکا سب کچھ شہروں میں ہوتا ہے اس لئے وہاں ایسی چیزیں نہیں ہونی چاہییں جس سے ان کی انڈسٹری یا منافع کو کوئی خطرہ ہو، ان کی کوشش ہوتی ہے کہ کنٹریکٹ پر چلے پورا ملک، غلطی سے بھی کسی کو مستقل نوکری نہیں ملنی چاہیے کیونکہ اگر کوئی ہمارے اشارے پر نہ چلے تو کنٹریکٹ والے کو نکالنا بہت آسان ہوتا ہے- ان کا بس چلے تو ہفتے میں ایک بھی چھٹی نہ ہو اور ہفتے میں سات کی بجایے دس دن ہوں تا کہ مزدور کو تنخواہ چالیس دن بعد دینی پڑے- ان لوگوں نے سرکاری محکموں میں بھی ڈیلی ویجز یا روزانہ دیہاڑی والی بدعت شروع کی تھی- ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ہر قومی ادارے کو نجی تحویل میں دے دیا جائے تا کہ انکے بھائی بندوں اور دوست سرمایہ کاروں کی دنیا اور عاقبت دونوں سنور سکیں- انکو امن سے ضرورت سے زیادہ پیار ہوتا ہے چاہے اس کے لئے قومی وقار کی قیمت ہی کیوں نہ دینی پڑے کیونکہ امن ہوگا تو تجارت ہوگی، بزنس پھلے پھولے گا، فیکٹریاں دس سے بیس ہوں گی، راون اور رام لنکا ڈھانے کی بجایے اپنے اپنے فوجی راکھشیشوں سے امن کے شنکھ بجتے ہوئے سنیں گے- یہ لوگ ہاریوں کو زمین دیں گے، حب علی میں نہیں بغض معاویہ میں- غلطی سے بھی کوئی ایسا ٹیکس نہیں لگایں گے جو غریبوں کی بجاے ان کے بھائی بندوں کو دینا پڑے-
امید ہے اب تک آپ کو سمجھ آ چکی ہوگی کن جماعتوں کی بات ہو رہی ہے اور ان کی سیاست کے پیچھے کیا عوامل کارفرما ہوتے ہیں- نہیں آیئ؟ کوئی بات نہیں آپ پاکستان کی تیسری جماعت بیوقوف عوام سے تعلق رکھتے ہیں- جو کبھی اپنے ایک قاتل کے جانے پر روتے ہیں اور دوسرے کے آنے پر ناچتے ہیں- ان لٹیروں اور قاتلوں کے لئے اپنے ہے دوستوں اور رشتہ داروں سے بحثیں کرتے ہیں، لڑتے ہیں اور پھر پانچ سال کے لئے روتے رہتے ہیں- مرنا ہی ہے تو کیا ضروری ہے کہ صرف دو قاتلوں کو یہ سہولت دی جائے؟ کوئی تیسرا قاتل آزما لینے میں کوئی حرج ہے کیا؟ کم سے کم میں تو ہر پانچ سال بعد ایک جیسی موت سے اکتا سا گیا ہوں، اب کسی نیے انداز سے مرنا چاہتا ہوں، کیا آپ ابھی تک بور نہیں ہوئے؟
Labels:Manuscripts
سیاست، فوج اور ملک
2:50 PM
| By
Think-Pk
|
سیاست، فوج اور ملک
اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں فوج مارشل لا کیوں لگاتی ہے؟ بھارت میں کیوں نہیں ہوا کبھی ایسا؟ یہ کہ کر پاکستانی فوج کی غلطی ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے- آج آپ کو ایک اور زاویے سے یہ سب دکھاتے ہیں- اور اس کالم کا یہ مقصد ہرگز نہیں ہے کہ مارشل لا کی وکالت کی جائے یا اسے جائز ثابت کیا جائے- پاکستان اور بھارت اکھٹے آزاد ہوۓ تھے- دونوں ملکوں کی فوج تقسیم سے پہلے ایک ہی تھی- ایک جیسی تربیت، ایک جیسی روایات، ایک جیسی سوچ اور ایک جیسے لوگ- پھر ایسا کیا ہوا کہ ایک ملک میں فوج عشروں سیاست میں الجھی رہی اور دوسرے میں کبھی ایسا نہیں ہوا-
فرق یہ تھا کہ بھارت میں تقسیم کے ساتھ ہی زرعی اصلاحات نافذ ہو گیئں، جن کے تحت وہ تمام لوگ جنہوں نے انگریزوں کے پاؤں چاٹ کر زمینیں اکھٹی کی تھیں وہ ان سے واپس لے لی گیئں- جاگیرداروں کا زور توڑ دیا گیا- اسکا فایدہ یہ ہوا کہ سیاستدانوں کا ان استحصالی طبقات پر انحصار ختم ہو گیا- جمہوریت کے لئے آھستہ ہی سہی مگر عوام کو فائدہ پہنچانا ممکن ہو گیا- اور وہاں کے سیاستدانوں نے بھی نسبتاً بہتر کام کیا- فوج وہاں کی کوئی فرشتہ نہیں تھی مگر انکو موقع ہی نہیں دیا سیاستدانوں نے کہ وہ انکی ناکامی سے فایدہ اٹھا کر اقتدار پر قبضہ کرنے کا یا جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کا سوچتے- آگے میں دو اسلامی ملکوں کی تاریخ سے مثال دے کر اس بات کو مزید واضح کروں گا-
مصر میں اسلام پسند برسراقتدار تھے- ایسا فوج کی مرضی کے خلاف ہوا تھا- بجاے اس کے کہ اسلام پسند اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عوام کی حقیقی فلاح و بہبود کے کام کرتے وہ ایسے معاملات میں الجھ گئے جن کے کرنے میں ابھی بہت وقت پڑا تھا- جب آپ عوام کو حقیقی معنوں میں روزگار، معیشت، تعلیم، انصاف اور حکومت کی طرف سے نہ ٹوٹنے والا اعتماد فراہم کر دیتے ہیں تو پھر کسی کی جرات نہیں ہوتی کہ وہ شب خون مارے- ترکی میں آیئنی اور قانونی طور پر فوج کا ایک طے شدہ کردار تھا- وہ سیاستدانوں کو پھانسیاں بھی دیتی تھی، تختے بھی الٹتی تھی، عمر قید کی سزا بھی سناتی تھی اور یہ سب آیئنی ہوتا تھا- آپ که سکتے ہیں کہ پاکستانی فوج تو ان کے سامنے جمہوریت کی چیمپئن لگتی تھی- لیکن آج دیکھیں ترکی میں جمہوری حکومت جرنیلوں کو سزا بھی سنا رہی ہے، مقدمے بھی چلا رہی ہے اور کسی کی جرات نہیں کہ انکو حکومت سے نکال سکے- یہ مقام انہوں نے عوام کو حقیقی تبدیلی دے کر، ان کو اچھی زندگی اور انصاف دے کر حاصل کیا ہے-
پاکستان کے لئے ان سب باتوں میں کچھ سبق پوشیدہ ہیں- مشرف صاحب کو آئین توڑنے کی سزا ضرور دیں- ان کو صرف دو سال کے لئے پاکستان میں ہی رکھیں اور جیسے ہی آپ عوام کی نظروں میں اپنی کارکردگی سے وہی مقام پا لیں جو ترکی کی حکومت کا ہے پھر بیشک ٹانگ دیں جس بھی ڈکٹیٹر کو ٹانگنا ہے- کوئی سی کرنے کی جرات بھی نہیں کرے گا- یاد رکھیے حکومتیں قانون کے بل بوتے پر نہیں بلکہ عوام کے پیار، محبت اور اعتماد کی وجہ سے چلتی ہیں- عوام کا دل اپنی کارکردگی سے جیت لیجیے اور جو دل چاہے کیجیے- الله آپ کو صحیح فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرماے-
Labels:Manuscripts
Subscribe to:
Posts
(Atom)
Total Pageviews
Popular Posts
-
-
-
SC, EC & Noon League one league Facts] by RohailAsghari