Pak Iran Gas Pipe Line - A Review
1:40 AM
| By
Think-Pk
|
Labels:Videos
Selling Mirrors to the Blind - اندھوں کے شہر میں آئینوں کی فروخت
5:27 AM
| By
Think-Pk
|
Labels:Published Articles
Interesting Article on War Against Terror - Unknown Author
4:43 PM
| By
Think-Pk
|
مان لیتے ہیں کہ افغانستان کی جنگ ہو یا دہشت گردی کے خلاف عالمی لڑائی کا شاخسانہ۔ دونوں کے دونوں ہیں، امریکی ڈراما اور پاکستان جیسے مسکین ممالک کو بھی اس میں گھسیٹ لیا گیا ہے۔ چنانچہ پاکستان میں پچھلے بارہ برس میں بالخصوص جو تباہی پھیلی ہے، اس کی ذمے دار امریکا کی علاقائی پالیسیاں ہیں۔ جب تک پاکستان اس کرائے کی جنگ سے جان نہیں چھڑائے گا، تب تک خودکش جان نہیں چھوڑیں گے۔ پاکستان میں اگر امن قائم کرنا ہے تو پھر امریکا کی تھوپی اس جنگ کو مسترد کرنا ہوگا۔
پرائی جنگ اپنی کیسے بنتی ہے ؟ اس کے لیے میں آپ کو بہت دور تک نہیں بس چوہتر برس پیچھے لے جاؤں گا جب ہٹلر نے پولینڈ پر حملہ کردیا تھا۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ باقی ممالک کہتے کہ بھئی یہ تو پولینڈ اور جرمنی کا آپس کا معاملہ ہے، ہمارا اس سے کیا تعلق۔پرمعلوم نہیں کیوں پولینڈ پر حملے کے دو دن بعد ہی فرانس اور برطانیہ نے ہٹلر کے خلاف اعلانِ جنگ کردیا۔ لیکن اسٹالن پھر بھی پاکستان کی طرح اسی گمان میں رہا کہ یہ دنیا کا خون چوسنے والی چمگادڑوں کی آپس کی لڑائی ہے، ہم کیمونسٹوں کا اس سے کیا لینا دینا۔چنانچہ اس نے ہٹلر سے عدم جارحیت کا معاہدہ کرلیا اور پاکستان کی طرح مطمئن ہوگیا۔مگر جب ہٹلر نے پورے مغربی یورپ پر قبضہ کرلیا تو پھر اس نے مشرق کا رخ کیا اور سوویت یونین پر حملہ کردیا۔یوں اسٹالن کی پرامن بقائے باہمی کی ساری تھیوری دھری کی دھری رھ گئی اور اسے ہٹلر کے مخالف خون چوس چمگادڑی سرمایہ دار ممالک کی مدد لینی پڑ گئی۔
جو سوچ اسٹالن کی تھی کم و بیش یہی سوچ اس دور کی امریکی اسٹیبلشمنٹ کی بھی تھی۔اس نے بھی یہی سمجھا کہ لڑائی تو یورپ میں ہورہی ہے سانوں کی۔۔۔۔لیکن جب ایک دن جاپانیوں نے پرل ہاربر پر ہلہ بول کر پورا بیڑہ تباہ کردیا اور امریکا کے منہ پر رکھ کے چپیڑ پڑی تب ہڑبڑاتے روزویلٹ کی بوڑھی سمجھ میں آیا کہ یہ جنگ دو ممالک یا دو اتحادوں یا دو نظریات سے زیادہ کی لڑائی ہے۔یہ جرمن اطالوی جاپانی فاشزم بمقابلہ باقی دنیا کی جنگ ہے۔
حتی کہ چین میں برسرِپیکار قوم پرست چیانگ کائی شیک اور کیمونسٹ ماؤزے تنگ بھی آپسی دشمنی ایک طرف رکھ کے جاپانی استعمار کے خلاف عارضی طور پر متحد ہوگئے۔ پھر جو بھی نتیجہ نکلا وہ آپ سب کے سامنے ہے۔اگر یہ نا ہوتا تو ہوسکتا ہے، آج واشنگٹن سے ماسکو اور بیجنگ سے دلی تک جرمن اور جاپانی اور کہیں کہیں اطالوی زبان بولی جارہی ہوتی۔اسرائیل سے عربوں نے انیس سو اڑتالیس سے آج تک جتنی بھی جنگیں لڑیں، ان میں سے کوئی جنگ عربوں نے یک سو ہو کر نہیں لڑی۔کبھی ایک روٹھ گیا تو کبھی دوسرا نیم دل ہوگیا تو کبھی تیسرے نے بروقت محاذ کھولنے میں تاخیر کردی تو کبھی دو نے سمجھ لیا کہ تیسرا جانے اور اسرائیل جانے۔ نتیجہ؟ آج تک اسرائیل اپنے سے چالیس گنا عربوں کو سیاسی و عسکری لحاظ سے دوڑا دوڑا کے مار رہا ہے۔آپ کہہ سکتے ہیں کہ اسرائیل امریکا کے بھروسے یہ سب حرکتیں کررہا ہے۔مگر امریکا تو آدھے سے زیادہ مسلمان ملکوں اور ان کی اسٹیبلشمنٹ کا بھی پشتی بان تھا اور ہے-
دور کیوں جائیں۔ جب سوویت یونین نے کابل میں فوجیں اتاریں تو وہ بھی افغانوں اور روسیوں کی جنگ تھی۔ پاکستان ، امریکا ، سعودی عرب ، ایران اور اسرائیل سمیت باقی دنیا کو یہ پرائی جنگ گلے لگانے کی بالکل ضرورت نہیں تھی۔ پھر بھی نا جانے اس پرائی جنگ کے لیے پاکستان کی مذہبی جماعتیں کیوں ہلکان ہوئی جارہی تھی۔اس وقت کیوں ان میں سے کسی نے نہیں کہا کہ برادر ضیا الحق تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو۔اس وقت بھی تو ولی خان جیسے چند سرپھرے یہی کہہ رھے تھے جو آج منور حسن ، عمران خان اور فضل الرحمان الگ الگ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان پرائے پھٹے میں ٹانگ اڑا کے بہت بڑی غلطی کررہا ہے۔
بھینسوں کی لڑائی میں صرف گھاس کچلی جائے گی۔لیکن اس وقت ولی خان اور ان کے ہمنوا نظریہ پاکستان کے دشمن غدار روسی ایجنٹ قرار پائے۔اس وقت روس بقول امریکی بلاک بلوچستان کے گرم پانیوں تک پہنچنا چاہتا تھا لہذا اس کو اجتماعی طور پر روکنا بقول ریگن و مارگریٹ تھیچر پوری آزاد دنیا کی اجتماعی ذمے داری قرار پائی اور پھر پوری سرمایہ دار اور مسلمان دنیا نے مل کر روس کو پسپا کرنے میں اپنی اپنی بساط کے مطابق یا اوقات سے بڑھ کے حصہ ڈالا۔تو کیا آج طالبان اور القاعدہ کا ایجنڈہ اس وقت کے روس سے مختلف ہے ؟اور کیا امریکا اس وقت اپنا عالمی ایجنڈہ دنیا پر تھوپنے سے باز آگیا تھا ؟
چلیے پھر بھی مان لیتے ہیں کہ موجودہ جنگ پاکستان پر تھوپی گئی ہے لہذا اس سے الگ تھلگ رہنا ہی بہتر ہے۔فرض کریں کل حکومتِ پاکستان اس جنگ سے لاتعلقی کا اعلان کردیتی ہے تو پھر کیا ہوگا ؟ کیا خودکش بمبار جیکٹیں پھینک کر کاشتکاری اختیار کرلیں گے ؟ دیگر سرفروش لیویز اور پولیس کی بھرتی کی لائنوں میں کھڑے ہوجائیں گے ؟ کیا لشکرِ جھنگوی تحریکِ جعفریہ سے جھپی ڈال لے گا ؟ کیا سب افغان اس فیصلے پر ہار پھول لے کر پاکستان کی طرف دوڑ پڑیں گے ؟ آیاسعودی عرب بھی پرجوش خیر مقدم کرے گا کہ جس کی سرزمین سے یمن میں القاعدہ کے ٹھکانوں پر ڈرون حملے کیے جاتے ہیں ؟
کیا وہ بدستور پاکستان کو تیل تین مہینے کے ادھار پر دیتا رہے گا ؟ برادر ترکی پاکستان کی پوزیشن تسلیم کرلے گا کہ جس کے دستے افغانستان میں ناٹو کا حصہ ہیں ؟ کیا پاکستان کا ہمالیہ سے بلند اور سمندر سے گہرا دوست چین پاکستان کے اس اعلان کی مکمل حمایت کرے گا جو اس وقت بھی تربیت پا کر شنجیانگ صوبے میں جانے والے جوشیلوں کے معاملے پر پاکستان سے زیرِ لب کچھ نا کچھ کہتا رہتا ہے ؟ کیا ایران اس جرات مندانہ فیصلے پر پاکستان کی پیٹھ تھپتھپائے گا جسے بقول اس کے بلوچستان سے متحرک جنداللہ نے تنگ کررکھا ہے؟ کیا آئی ایم ایف کے منہ موڑ لینے سے جو قرضی خلا پیدا ہوگا، اسے اس جنگ کو غیر کی جنگ سمجھنے والے بھر پاویں گے ؟
اگر آج مسلم لیگ نواز ، جماعتِ اسلامی ، تحریکِ انصاف اور جمعیت علمائے اسلام کی وفاق اور چاروں صوبوں میں دو تہائی اکثریت سے حکومت بن جائے تو کیا کل پہلا ڈرون گر جائے گا ؟ ناٹو فورسز کی سپلائی کا رخ روس کے راستے پر موڑ دیا جائے گا ؟ تحریکِ طالبان کو انیس سو تہتر کے آئین کے تحت اگلا الیکشن لڑنے پر اگلے ایک ماہ میں نہیں چھ ماہ میں نہیں سال بھر میں نہیں دوسال میں بات چیت کے ذریعے آمادہ کرلیا جائے گا ؟ کہیے نا کہ ہاں یہ سب ہوگا ؟ یا ان میں سے کچھ ہوگا اور کچھ نہیں ہوگا۔چلیے یہی بتادیں کہ وہ ’’ کچھ’’ کیا ہے جو ہوجائے گا ؟
کیا دوسری عالمگیر جنگ ضروری تھی ؟ ہٹلر سے بات چیت بھی تو ہوسکتی تھی ؟ کیوں تین کروڑ لوگ فنا ہوگئے ؟ سوویت یونین سے بھی تو مذاکرات ہوسکتے تھے کہ وہ افغانستان سے نکل جائے ؟ کیوں دس لاکھ افغان مرگئے اور چالیس فیصد بے گھر ہوگئے ؟ اسرائیل سے بھی بات چیت ہو تو رہی ہے نا سن نوے سے ؟ پھر کیا نتیجہ نکل رہا ہے اس تئیس سالہ بات چیت کا ؟ جب محلے میں شعلے بلند ہورہے ہوں تو پہلے آگ بجھائی جاتی ہے یا یہ بحث زیادہ ضروری ہوتی ہے کہ فلاں گھر میں بجھا دو کیونکہ دوست ہے اور ساتھ والے گھر کو رہنے دو کیونکہ دشمن ہے۔اور جب تک یہ نا طے ہوجائے کہ آگ زید نے لگائی کہ بکر نے تب تک کوئی بھی احتجاجاً پانی کی بالٹی نا بھرے ؟
تو پھر یہ جنگ کس روز پرائی ہوئی جسے اعلیٰ عدلیہ کے حلف یافتہ جنرل پرویز مشرف نے اپنایا تھا ؟ کیا مشرف صاحب اس وقت کوئی امریکی کمانڈر تھے ؟ کیا انھوں نے دو ہزار دو میں وہ انتخابات نہیں کرائے تھے کہ جن میں اپنی پرائی جنگ کی بحث سجانے والی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلسِ عمل نے پارلیمنٹ میں ساٹھ اور صوبہ سرحد میں اکثریتی نشستیں حاصل کی تھیں ؟ اور پھر اس پرائی جنگ میں جھونکنے والے مشرف کو بھی اگلے چھ برس برداشت کیا ، اس کے ساتھ گروپ فوٹو کھچوائے اور ستہرویں ترمیم اور وردی میں صدارت کے تحفے خریدنے میں بھی کماحقہ حصہ ڈالا۔لال مسجد کے واقعے اور ڈما ڈولا میں ڈرون حملے میں پچاسی کے لگ بھگ مدرسے کے طلبا کی ہلاکت کے بعد بھی کیا صوبہ سرحد اور بلوچستان کی حکومت چھوڑنے اور پرائی جنگ کا بائیکاٹ کرنے کا جواز نہیں بنتا تھا ؟ اور خود ایم ایم اے کہاں سے آئی تھی اور پھر کہاں چلی گئی حضرات ؟ اور یہ اپنی پرائی جنگ کے علمبردار آج بھی ایک میز پر بیٹھ کر ایک دوسرے کی آنکھوں سے آنکھیں ملانے پر کیوں تیار نہیں ؟
ویسے دنیا کی ایسی کون سی آگ اور جنگ ہے جو کسی نا کسی کی غلطی یا غلط فہمی سے شروع نا ہوئی ہو ؟ تو چونکہ آپ اس میں ابتدائی فریق نہیں تھے لہٰذا آپ کا پائنچہ اور دامن پکڑنا اس آگ کو اخلاقاً زیب نہیں دیتا ؟ کیا جنگ اور آگ اپنے پرائے کو پہچانتی ہے ؟ ہاں شائد ایسا ممکن ہے۔ مگر اس کے لیے آگ اور جنگ کا یکسوئی سے سامنا کرنا پڑتا ہے اور سامنا کرنے کے لیے حوصلہ چاہیے اور حوصلہ ’’چونکہ چنانچہ‘‘ سے نہیں آتا۔ ویسے بھی اب تک کوئی بندوق ایجاد نہیں ہوئی جس میں تاویل کا کارتوس پڑتا ہو۔
Labels:Other Articles
A Thought Provoking Debate on Contempt - Kashif Abbasi
1:25 PM
| By
Think-Pk
|
Labels:Videos
D.I Khan Jail Break Another Perspective - ڈی آئی خان جیل - ایک اور زاویہ
12:38 PM
| By
Think-Pk
|
Addition: Following were also informed: Home Secretary KPK, Provincial Police Officer KPK, Additional Chief Secretary FATA, IG FC KPK, IG Prisons KPK, Commandant FC KPK, Commandant Chitral Scouts. Again none of them was any political position holder in KPK.
Baki kay tamam log bhi hukoomat main shamil siasi log nahin thay. :)
Labels:Published Articles
Syed Wasi Shah About Contempt of Court
3:06 AM
| By
Think-Pk
|
Labels:Other Articles
Aisi Taisi of PTI and PML-N Both - Interesting Program
11:45 AM
| By
Think-Pk
|
Labels:Videos
On Imran Khan and Judiciary - ایک غیرشرمناک کالم
10:01 AM
| By
Think-Pk
|
Labels:Published Articles
Live With Talat About Contempt & Imran Khan
12:24 PM
| By
Think-Pk
|
Labels:Videos
Chirya Walay ki Bhi Sun Lain at Contempt of Court
11:33 AM
| By
Think-Pk
|
Labels:Videos
An in Depth Analysis of Contempt and Imran Khan
11:07 AM
| By
Think-Pk
|
Labels:Videos
When Lions Were Asleep Imran Khan Was Awake
11:09 PM
| By
Think-Pk
|
Labels:Videos
Imran Khan Full Interview With Javed Chauhdry Regarding Supreme Court
11:29 AM
| By
Think-Pk
|
Labels:Videos
Is Our DNA Corrupt? Rauf Klasra
8:43 AM
| By
Think-Pk
|
Labels:Other Articles
Maqbooza Pakistan by Syed Talat Hussain
7:45 AM
| By
Think-Pk
|
Labels:Other Articles
Presidential Elections Delay - صدارتی انتخابات
1:31 AM
| By
Think-Pk
|
Labels:Other Articles
A Sincere Tribute to Voters of PMLN - مسلم لیگ (ن) کے شیروں کو سلام
4:32 AM
| By
Think-Pk
|
Labels:Published Articles
Javed Chauhdry Article - کونسل آف ایلڈرز
3:20 PM
| By
Think-Pk
|
کونسل آف ایلڈرز
جاوید چوہدری ہفتہ 27 جولائ 2013
شیخ حفیظ صاحب میرے بزرگ دوست ہیں‘ یہ زندگی کی 76 بہاریں دیکھ چکے ہیں‘ شیخ صاحب نے بھرپور زندگی گزاری‘ جوانی میں یورپ گئے اور پورا یورپ ٹرینوں‘ بسوں اور پیروں پر دیکھ ڈالا‘ برطانیہ میں تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کی‘ ناکام رہے‘ پاکستان واپس آئے‘ مختلف جابز کیں‘ ان سے تھک گئے تو بینک میں ملازمت کر لی‘ یہ ان کی آخری ملازمت تھی‘ یہ پوری زندگی کے لیے بینکر بن کر رہ گئے‘ یہ 1997ء میں ایک بڑے بینک سے سینئر نائب صدر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے اور16 برسوں سے ریٹائر زندگی گزار رہے ہیں‘ یہ جوانی میں رمل کے شوق میں بھی مبتلا ہو گئے‘ رمل کا علم سیکھا اور مہارت حاصل کر لی‘ یہ کتابیں پڑھنے کے بھی شیدائی ہیں‘ یہ ہومیو پیتھک ڈاکٹر بھی ہیں اور یہ برسوں سے شوگر کی دوا بنانے میں بھی مصروف ہیں غرض آپ جس زاویے سے دیکھیں آپ شیخ صاحب کو ایک دلچسپ اور شاندار انسان پائیں گے۔
میری ان سے پہلی ملاقات 1999ء میں ہوئی‘ میں اس وقت تازہ تازہ ’’مشہور‘‘ ہوا تھا اور یہ ’’مشہوری‘‘ مجھ سے روزانہ بے شمار غلطیاں کرواتی تھی‘ پھر شیخ صاحب ملے اور انھوں نے میری نکیل پکڑ لی‘ یہ زندگی کے ہر معاملے میں میری رہنمائی کرنے لگے‘ ان کا پہلا سبق بہت دلچسپ تھا‘ ان کا کہنا تھا آپ جتنے بھی طاقتور ہو جائیں‘ آپ جتنے بھی کامیاب ہو جائیں‘ آپ وقت کو واپس نہیں پلٹ سکتے مثلاً آپ ساٹھ سال کی عمر میں دنیا کے امیر ترین شخص ہو جائیں اور آپ اپنی ساری دولت خرچ کر دیں تو بھی آپ بیس پچیس سال کے جوان نہیں ہو سکیں گے چنانچہ آپ جوانی کے کام جوانی ہی میں کرو‘ انھیں بڑھاپے کے لیے بچا کر نہ رکھو‘ ان کا کہنا تھا ’’میں دنیا دیکھنا چاہتا تھا‘ میں افریقہ‘ امریکا‘ جنوبی ایشیا اور آسٹریلیا دیکھنا چاہتا تھا مگر میں پھر جاب میں پھنس گیا اور ہمیشہ یہ سوچتا رہا میں جب معاشی لحاظ سے آزاد ہو جاؤں گا تو میں اپنی یہ خواہش پوری کروں گا‘ میں پچاس پچپن سال کی عمر میں خوش حال ہوگیا مگر اس وقت تک میرا جسم بوڑھا بن چکا تھا‘ میں شوگر کا مریض ہو چکا تھا۔
مجھے بلڈ پریشر کی بیماری بھی لگ چکی تھی لہٰذا میں ’’افورڈ‘‘ کرنے کے باوجود ملک سے باہر نہیں جا سکتا تھا‘ زندگی کے ہر شوق کی ایک عمر ہوتی ہے‘ اگر یہ عمر گزر جائے تو پھر آپ ’’افورڈ‘‘ کرنے کے باوجود وہ شوق پورا نہیں کر سکتے ‘ میرا مشورہ ہے آج کے دن میں زندہ رہنا سیکھو کیونکہ کل آ جائے گا لیکن آج دوبارہ نہیں آئے گا‘‘ اور میں نے یہ سیکھ لیا‘ میں نے اپنے شوق کی فہرست بنائی‘ ان کے سامنے عمر کے وہ حصے لکھے جن میں یہ ممکن ہیں اور پھر ان کی تکمیل میں جت گیا‘ اس فہرست میں سفر‘ جاگنگ‘ ایکسرسائز‘ریستوران‘ جینز‘ فلمیں‘دنیا بھر کے کامیاب لوگوں سے ملاقاتیں اور کتابیں شامل ہیں‘ ان کا دوسرا سبق ’’واک‘‘ تھا‘ میں لیٹ سوتا ہوں چنانچہ صبح نہیں اٹھ سکتالہٰذا میں واک کی روٹین نہیں بنا پاتا تھا‘ شیخ صاحب نے یہ ’’متھ‘‘ توڑ دی‘ انھوں نے بتایا‘ واک کا کوئی وقت اور کوئی جگہ نہیں ہوتی‘ آپ گاڑی میں جوگر رکھو اور جہاں موقع ملے‘ جو گرز پہنو اور واک شروع کر دو‘ میں نے یہ شروع کر دیا اور یوں ایک مہینے میں واک میری زندگی کا معمول بن گئی۔
شیخ حفیظ نے بتایا‘ فیملی سپریم ہوتی ہے‘ ان کا کہنا تھا ’’میرے تمام عزیز ایک ایک کر کے میری زندگی سے نکل گئے‘ دوست ساتھ چھوڑ گئے یا دور چلے گئے‘ میں اس جاب سے ریٹائر ہو گیا جس کے لیے میں نے خون‘ پسینہ اور زندگی کے قیمتی ترین دن اور رات دیے تھے‘ یوں میری زندگی سے ہر وہ چیز رخصت ہو گئی جس کو میں اہم سمجھتا تھا اور آخر میں صرف فیملی رہ گئی‘ میرے ساتھ اب صرف میرے بچے ہیں چنانچہ جس چیز نے آخری سانس تک آپ کا ساتھ نبھانا ہے اس پر کسی قسم کا ’’کمپرومائز‘‘ نہیں ہونا چاہیے‘ اسے سپریم رہنا چاہیے‘‘ میں نے یہ بات بھی پلے باندھ لی‘ میں فیملی پر کمپرومائز نہیں کرتا‘ شیخ صاحب نے سکھایا ’’ وعدہ نہیں توڑنا‘ اگر ایک بار کمٹمنٹ کر لی تو پھر اسے ٹوٹنا نہیں چاہیے اور آپ کی اس عادت کا پوری دنیا کو علم ہونا چاہیے‘ دوست بہت کم ہونے چاہئیں لیکن شاندار ہونے چاہئیں‘ اللہ تعالیٰ کو ہر وقت راضی رکھیں کیونکہ اگر وہ آپ کے ساتھ ہے تو پھر کوئی فرق نہیں پڑتا کون کون آپ کے خلاف ہے۔
بچت کو آپ کے اخراجات سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے‘آپ 75 فیصد خرچ کریں صرف 25 فیصد بچائیں کیونکہ آپ اپنی خواہشوں اور حسرتوں کو دبا کر بچت کرتے ہیں اور یہ بچت کسی بھی وقت ضایع ہو سکتی ہے‘ لوگوں سے توقعات وابستہ نہ کریں‘ ان پر اعتبار کرنے سے پہلے کم از کم تین بار انھیں ٹیسٹ کر لیں‘ آپ اپنے راستے پر سیدھا چلتے رہیں‘ یہ نہ دیکھیں آپ کو کون کیا کہہ رہا ہے‘ کون آپ کے راستے میں روڑے اٹکا رہا ہے‘آپ کسی الزام کا جواب نہ دیں کیونکہ جو لوگ آپ کو جانتے ہیں ان کی نظر میں ان الزامات کی کوئی حیثیت نہیں اور جو آپ سے واقف نہیں ہیں وہ آپ کی وضاحت کو اعتراف جرم یا دال میں کالا سمجھیں گے‘‘ شیخ صاحب نے سمجھایا‘بے غرض ہو جائو‘ لوگوں کی محتاجی سے نکل جائو گے اور انسان کا کام انسان کی سب سے بڑی پبلک ریلیشننگ ہوتا ہے‘‘ شیخ صاحب نام نہاد روحانیت کے بھی سخت خلاف ہیں‘ میں ایک وقت میں بزرگوں کی تلاش میں رہتا تھا‘ مجھے جس شخص کے سر میں راکھ نظر آتی تھی‘ میں اس میں پیر کامل تلاش کرنا شروع کر دیتا تھا۔
شیخ صاحب نے یہ ’’ متھ‘‘ بھی توڑ دی‘ یہ میرے ساتھ بزرگوں کی محفلوں میں جاتے اور انھوں نے ایک ایک کر کے تمام بزرگ بھگا دیے‘ انھوں نے ثابت کر دیا آسمان کے نیچے اور زمین کے اوپر تمام انسان‘ انسان ہیں اور ہم میں سے ہر شخص خطا‘ طمع اور خوف کا پتلا ہے‘ انھوں نے سمجھایا محنت سے بڑا محسن‘ نیک نیتی سے بڑا استاد اور مہارت سے بڑی کوئی جاب نہیں ہوتی‘ شیخ صاحب نے مزید دو دلچسپ چیزیں سکھائیں‘ انھوں نے بتایا‘ دوستیاں ہمیشہ اس وقت خراب ہوتی ہیں جب کوئی دوست آپ سے اپنا راز شیئر کرتا ہے اور آپ اس راز کے استعمال کی غلطی کر بیٹھتے ہیں‘ یہ مثال دیتے ہیں‘ فرض کرو آپ کا کوئی دوست آپ کو یہ بتا دیتا ہے‘ اس کے پاس اتنی رقم ہے اور آپ بعد ازاں اس سے ادھار مانگ لیتے ہیں‘ ادھار کا یہ مطالبہ آپ کا تعلق ہمیشہ کے لیے خراب کر دے گا‘ آپ کا دوست جب کوئی راز شیئر کرے تو آپ اس سے کبھی کوئی مطالبہ نہ کرو کیونکہ یہ مطالبہ بددیانتی ہو گا۔
انھوں نے دوسری بات سمجھائی آپ اپنے کسی عزیز‘ دوست یا کولیگ کے ساتھ کتنے ہی ناراض ہوں لیکن وہ شخص جب کسی ایمرجنسی میں آپ کو فون کرے تو آپ اپنی ناراضی کا اظہار نہ کریں‘ آپ فوری طور پر اس کی مدد کریں اور کام ہونے کے بعد وہ اگر شکریہ ادا کرنے آئے تو آپ ہلکے پھلکے انداز میں اسے سمجھا دیں تم نے فلاں وقت میرے ساتھ بڑی زیادتی کی تھی‘ میں تم سے ناراض تھا مگر مجھ سے تمہاری تکلیف دیکھی نہیں گئی اور میں اختلاف اور ناراضی کے باوجود تمہارے ساتھ چل پڑا‘ شیخ صاحب نے سمجھایا آپ کبھی دل کے کمزور یا بے حوصلہ شخص کے لیے اسٹینڈ نہ لیں کیونکہ وہ شخص اپنے دعوے سے منحرف ہو جائے گا‘ وہ مخالف پارٹی سے صلح کر لے گا مگر آپ لوگوں سے اپنے تعلقات خراب کر بیٹھو گے‘آپ ہمیشہ ایسے بہادر اور بااصول لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوں جو اپنے اسٹینڈسے پیچھے نہ ہٹیں ٗجو آپ کو میدان میں اکیلا نہ چھوڑجائیں‘ انھوں نے سمجھایا‘ عزت اوردولت میں جب بھی کسی ایک کے انتخاب کا وقت آئے تو دولت کی قربانی دو کیونکہ دولت زندگی میں باربارآتی ہے مگر عزت ایک بارچلی جائے توپھرکبھی واپس نہیں آتی‘ ان کا کہنا تھا کہ اپنے بچوں بالخصوص بیٹیوں کی تمام جائز ضروریات پوری کیاکرو‘ ان کا کوئی مطالبہ یاتقاضا مسترد نہ کرو کیونکہ بچے والدین کی محبت کو پوری زندگی یاد رکھتے ہیں۔
شیخ صاحب میرے عملی استاد ہیں ‘ یہ تجربہ کار بھی ہیں‘ عالم بھی اور اس سے کہیں زیادہ نیک نیت بھی لہٰذا میں جب بھی کسی مسئلے کا شکار ہوتاہوں یا کسی کنفیوژن میں پھنس جاتا ہوں یا کوئی فیصلہ نہیں کر پاتا تو میں شیخ صاحب سے رابطہ کرتا ہوں اور اونچی آواز میں کہتا ہوں ’’بابا جی گیدڑ آ گئے ہیں‘‘ اور شیخ صاحب کا قہقہہ نکل جاتاہے‘ گیدڑ شیخ صاحب کی ایک دلچسپ اصطلاح ہے‘ یہ کہا کرتے ہیںوسوسے اور اندیشے گیدڑ ہیں‘ یہ انسان کو اکثر گھیر لیتے ہیں اورآپ اگر ان پر قابو پانا سیکھ جائیں تو آپ مسائل کے گرداب سے نکل آتے ہیں آپ اگر یہ فن نہیں سیکھتے توگیدڑ آپ کی صلاحیتیں کھا جاتے ہیں‘ میں ان کے قہقہے کے بعد اپنا مسئلہ ان کے سامنے رکھتا ہوں اور وہ اس کے دو حل تجویز کرتے ہیں‘ ایک حل علمی ہوتاہے‘ یہ پڑھی لکھی رائے ہوتی ہے اوردوسرا حل تجربہ ہوتا ہے‘ شیخ صاحب مجھے بتاتے ہیں‘ وہ زندگی کے کس حصے میں اس قسم کے مسئلے کا شکارہوئے تھے‘ انھوں نے غلط فیصلہ کیا تھا اور اس کا انھیں کیا خمیازہ بھگتنا پڑا تھا‘ وہ اپنے کسی نہ کسی جاننے والے یا دوست کا حوالہ بھی دیتے ہیں اور یوں ہم حل پر پہنچ جاتے ہیں‘ میں اکثر اپنے دوستوں یا جاننے والوں کوبتاتاہوں‘ میری عمرہزار سال ہے‘میں بیالیس سال کا ہوں‘ میرا استاد 76 سال کا اور ہماری کتابیں880 سال کی ہیں اور یہ ہزار سال کا تجربہ مجھے راستے سے بھٹکنے نہیں دیتا۔
یہ میری زندگی کا تجربہ ہے‘ ہمارے دوست اورہمارے سیاستدان بھی اس تجربے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں‘ آپ کی زندگی میں بھی بے شمار تجربہ کار لوگ موجود ہوں گے‘ آپ ان میں ستر پچھتر سال کے پڑھے لکھے ٗ تجربہ کار ٗ ذہین‘نیک اور بے لوث لوگ چنیں اور آپ انھیں اپنا استاد بنا لیں‘ یہ آپ کو زندگی کے بے شمار مسائل سے بچائے رکھیں گے‘ یہ آپ کوغلط مشیروں‘ غلط لوگوں اور غلط فیصلوں سے بھی محفوظ رکھیں گے آپ اگرحکمران ہیں تو آپ ایک ’’کونسل آف ایلڈرز‘‘ بنا لیں‘ یہ تجربہ کار بزرگوں کی ایک ایسی خفیہ کونسل ہو جو آپ کو مشکل وقت میں مشورے دے‘ آپ ان مشوروں پر عمل کریں اور اپنی ذات اور اپنے ملک دونوں کو مسائل سے نکال لیں‘ عربی کہاوت ہے ’’مشورے کا وقت آئے تو کبھی ذہین شخص سے مشورہ نہ کریں ٗ تجربہ کار کی مدد لیں‘‘۔
Labels:Other Articles
ن لیگ کے سپورٹر نے لائیو شو میں ن لیگ کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں۔
2:52 PM
| By
Think-Pk
|
Labels:Videos
ن لیگ کے سپورٹر نے لائیو شو میں ن لیگ کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں۔
2:52 PM
| By
Think-Pk
|
Labels:Videos
LOL nice exchange of ideas, Mian sb and Altaf Bhai
11:47 AM
| By
Think-Pk
|
Labels:Videos
LOL nice exchange of ideas, Mian sb and Altaf Bhai
11:47 AM
| By
Think-Pk
|
Labels:Videos
Love of Altaf Hussain for Sharifs
11:39 AM
| By
Think-Pk
|
Labels:News
PML-N Candidate for NA-48 Against Asad Umar
3:09 AM
| By
Think-Pk
|
ISLAMABAD, July 26: Pakistan Muslim League-Nawaz (PML-N) and Pakistan Tehrik-i-Insaf (PTI) may be poles apart on national and international issues but when it comes to fielding candidates for NA-48 they think alike.
Both the parties’ have given tickets to outsiders for the by-election for Islamabad’s only urban area National Assembly seat.
First Imran Khan-led PTI fielded Asad Umar, a Karachiite, for the August 22 by-election and now PML-N has opted for ex-MNA Hanif Abbasi, a Pindiite, as its candidate.
According to experts, the two parties have gone for outsiders because they have no ‘suitable, strong’ local candidates for the contest. They insist the two want to win the seat vacated by Javed Hashmi of PTI in May 11 elections ‘at any cost’.
PTI’s Javed Hashmi managed to get 73,878 votes from NA-48 and PML-N’s Anjum Aqeel Khan polled 52,205 votes and third position was clinched by JI’s Mian Mohammad Aslam as he secured 25,048 votes while PPP’s Faisal Sakhi Butt got 9,178 votes.
Mr Hashmi vacated the seat as he opted for his home constituency seat from Multan.
PTI’s decision to launch an outsider in by-election created ripples in the party as former minister for state Waseem Shahzad and Dr Israr Shah were also interested in the National Assembly seat.
“The launching of Asad Umer in by-election will not create division within the party as national politics is different from the local one,” said PTI Punjab Vice President Raja Tariq Mehboob Kiani, while talking to Dawn.
He said that Asad Umer was main leader of PTI and one of the policy makers and it was necessary to bring him in National Assembly to protect to strengthen the party in the House.
“Our candidate had clean past but PML-N fielded old horse who was defeated by our party in May 11 elections and this election will not be different from that,” he said.
On Friday, the former MNA Hanif Abbasi claimed that he got the party ticket for the by-election in NA-48.
While talking to Dawn, former MNA of PML-N for NA-56, Hanif Abbasi claimed that the party gave him ticket for NA-48 bye-elections and he will contest the elections.
“I was not interested in contesting the election but the party leadership wanted to field me,” he said and added that the official letter regarding party ticket was received by him on Friday.
“I will go to the residents of Islamabad and seek vote for Nawaz Sharif. We will launch the election campaign in Islamabad soon,” he said.The potential candidate for the seat said that he was not alien to capital city as he lived in its neighbouring city and knew all the people in the constituency. “People will vote for the PML-N not for candidate as the national politics is above local politics,” he said.
However, PML-N media coordinator Asim Khan Niazi neither confirmed nor denied and said that the party would announce its decision on Sunday.
When contacted PML-N chairman Raja Zafarul Haq, he said he did not know about the decision and Mr Abbasi would better explain whether he got intimation from party leadership.
On the other hand, some PML-N leaders were of the view that the decision to field Hanif Abbasi for NA-48 would divide the party at local level.
They thought Anjum Aqeel was involved in land scam cases, therefore he was refused party ticket, but Hanif Abbasi too was involved in election related violence and much publicised ephedrine case, a PML-N leader said.
He said Barrister Zafarullah Khan, Sajjad Afzal Cheema and Ashraf Gujar were aspiring to be the PML-N candidate for this constituency.
“The party should have fielded a reasonable candidate against a person like Asad Umer who claimed to be enjoying the support of civil society in capital city,” he said.
Meanwhile, Pakistan People’s Party (PPP) has announced to field Faisal Sakhi Butt while Mian Mohammad Aslam will run for the seat from Jamaat-i-Islami platform.
Source: http://dawn.com/news/1032246
Both the parties’ have given tickets to outsiders for the by-election for Islamabad’s only urban area National Assembly seat.
First Imran Khan-led PTI fielded Asad Umar, a Karachiite, for the August 22 by-election and now PML-N has opted for ex-MNA Hanif Abbasi, a Pindiite, as its candidate.
According to experts, the two parties have gone for outsiders because they have no ‘suitable, strong’ local candidates for the contest. They insist the two want to win the seat vacated by Javed Hashmi of PTI in May 11 elections ‘at any cost’.
PTI’s Javed Hashmi managed to get 73,878 votes from NA-48 and PML-N’s Anjum Aqeel Khan polled 52,205 votes and third position was clinched by JI’s Mian Mohammad Aslam as he secured 25,048 votes while PPP’s Faisal Sakhi Butt got 9,178 votes.
Mr Hashmi vacated the seat as he opted for his home constituency seat from Multan.
PTI’s decision to launch an outsider in by-election created ripples in the party as former minister for state Waseem Shahzad and Dr Israr Shah were also interested in the National Assembly seat.
“The launching of Asad Umer in by-election will not create division within the party as national politics is different from the local one,” said PTI Punjab Vice President Raja Tariq Mehboob Kiani, while talking to Dawn.
He said that Asad Umer was main leader of PTI and one of the policy makers and it was necessary to bring him in National Assembly to protect to strengthen the party in the House.
“Our candidate had clean past but PML-N fielded old horse who was defeated by our party in May 11 elections and this election will not be different from that,” he said.
On Friday, the former MNA Hanif Abbasi claimed that he got the party ticket for the by-election in NA-48.
While talking to Dawn, former MNA of PML-N for NA-56, Hanif Abbasi claimed that the party gave him ticket for NA-48 bye-elections and he will contest the elections.
“I was not interested in contesting the election but the party leadership wanted to field me,” he said and added that the official letter regarding party ticket was received by him on Friday.
“I will go to the residents of Islamabad and seek vote for Nawaz Sharif. We will launch the election campaign in Islamabad soon,” he said.The potential candidate for the seat said that he was not alien to capital city as he lived in its neighbouring city and knew all the people in the constituency. “People will vote for the PML-N not for candidate as the national politics is above local politics,” he said.
However, PML-N media coordinator Asim Khan Niazi neither confirmed nor denied and said that the party would announce its decision on Sunday.
When contacted PML-N chairman Raja Zafarul Haq, he said he did not know about the decision and Mr Abbasi would better explain whether he got intimation from party leadership.
On the other hand, some PML-N leaders were of the view that the decision to field Hanif Abbasi for NA-48 would divide the party at local level.
They thought Anjum Aqeel was involved in land scam cases, therefore he was refused party ticket, but Hanif Abbasi too was involved in election related violence and much publicised ephedrine case, a PML-N leader said.
He said Barrister Zafarullah Khan, Sajjad Afzal Cheema and Ashraf Gujar were aspiring to be the PML-N candidate for this constituency.
“The party should have fielded a reasonable candidate against a person like Asad Umer who claimed to be enjoying the support of civil society in capital city,” he said.
Meanwhile, Pakistan People’s Party (PPP) has announced to field Faisal Sakhi Butt while Mian Mohammad Aslam will run for the seat from Jamaat-i-Islami platform.
Source: http://dawn.com/news/1032246
Labels:News
Pakistani Siasat ka Aaina
12:21 PM
| By
Think-Pk
|
Labels:Published Articles
Pakistani Siasat ka Aaina
12:21 PM
| By
Think-Pk
|
Labels:Published Articles
Rauf Klasra should be sued. Damn so huge blames?
6:52 AM
| By
Think-Pk
|
Labels:Videos
Rauf Klasra should be sued. Damn so huge blames?
6:52 AM
| By
Think-Pk
|
Labels:Videos
Zaid Hamid, Islam, Democracy, Our Political Parties - A Thought Provoking Article
6:09 AM
| By
Think-Pk
|
Labels:Other Articles
LOL Geo News Anchor's Comments About Aamir Liaqat Hussain
5:12 AM
| By
Think-Pk
|
Labels:Videos
LOL Geo News Anchor's Comments About Aamir Liaqat Hussain
5:12 AM
| By
Think-Pk
|
Labels:Videos
Syed Talat Hussain About Ayela Malik, Ghulam Sarwar and Shujaat Azeem
3:51 AM
| By
Think-Pk
|
Labels:Other Articles
Nazir Naji on Cricket Funny Article
2:34 AM
| By
Think-Pk
|
I do not like Nazir Naji much but this was a funny article hence sharing. Click below to read it.
Labels:Other Articles
Imran Khan's First Interview After His Return from UK
1:44 AM
| By
Think-Pk
|
Labels:Videos
Imran Khan's First Interview After His Return from UK
1:44 AM
| By
Think-Pk
|
Labels:Videos
Welcome
12:05 PM
| By
Think-Pk
|
Please click on menu items above or links below to browse through various subjects / posts published over time. I hope you will contribute with your constructive and positive feedback.
My Published Articles || Manuscripts of Published Articles || Videos and Presentations || Glimpse of My Research Work
Worth of Pseudo Liberals and Apologetic Pakistani Seculars
1:43 AM
| By
Think-Pk
|
Labels:Published Articles
How Imran Khan is Not a Jew (Yahoodi) Agent? Know the Logical Reality - Yahoodi Lobby
12:06 PM
| By
Think-Pk
|
Labels:Published Articles
Danish Schools Summary, Pros and Cons. Financial Analysis.
11:49 AM
| By
Think-Pk
|
Sources For This Article:
Source 1 : http://www.pndpunjab.gov.pk/pnd/1/education/e3.htm
Source 2 : http://daanishschools.edu.pk/?q=node%2F192
Labels:Published Articles
Two Nation Theory Effects and Results, Terrorism and Extremism in Pakistan - Solution
11:43 AM
| By
Think-Pk
|
Labels:Published Articles
Reason of Martial Laws in Pakistan and Not India - Turkey Model.
11:34 AM
| By
Think-Pk
|
Labels:Published Articles
Nation in Love With its Own Murderers. Apnay Qatilon Ka Ishq. Parties of Feudal and Industrial Lords
11:24 AM
| By
Think-Pk
|
Labels:Published Articles
Pakistan Army Bashing and Reality. Fiction and Truth. Perceptions and Illusions.
11:17 AM
| By
Think-Pk
|
Labels:Published Articles
Article on How to Fix Things in Pakistan
11:09 AM
| By
Think-Pk
|
Labels:Published Articles
Malik Riaz as Prime Minister
11:04 AM
| By
Think-Pk
|
Labels:Published Articles
Pakistani Liberal Terrorists - پاکستانی لبرل دھشتگرد
12:14 AM
| By
Think-Pk
|
پاکستانی لبرل دھشتگرد
جب بھی بارش ہونے والی ہوتی ہے، ایک پرندہ اڑتا ہے- اس پرندے کو پنجاب میں ٹٹیری کہتے ہیں اور بھی کچھ نام ہیں اس کے- یہ پرندہ رات کو سوتے ہوئے اپنی ٹانگیں اوپر کر کے سوتا ہے- پتا کیوں؟ اسکو لگتا ہے کہ اس نے آسمان سر پر اٹھایا ہوا ہے اگر یہ سو گیا تو آسمان گر پڑے گا- اسی طرح ہمارے ملک میں دہشت گردی اور انتہا پسندی سے لڑنے والا اصل فریق پاکستانی عوام ہیں- لیکن ماروی سرمد، عاصمہ جہانگیر اور ان جیسے باقی خود ساختہ لبرل جو مذہب کا مذاق اڑاتے ہیں انکی فکری ٹانگیں بھی اوپر ہوتی ہیں سوتے ہوئے کیونکہ وہ بھی یہی سمجھتے ہیں کہ انہوں نے انتہا پسندی سے ٹکر لے رکھی ہے- وہ پاکستانی معاشرے میں دھشتگردوں سے لڑ رہے ہیں ایسا لگتا ہے ان کو-
اب آپ کو بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ایسے لوگ کیا کرتے ہیں، کیوں کرتے ہیں، خود کو کیا سمجھتے ہیں اور در حقیقت کیا ہیں- صرف تین معاملات ہیں جہاں ہمارے لبرلز کی دم کھڑی ہوتی ہے اور وہ اس پر ناچنا شروع کر دیتے ہیں- ایک جب کوئی لڑکی گھر سے بھاگ کر شادی کر لے، دو جب کسی بھٹکے ہوئے مسلمان کے انفرادی عمل کی وجہ سے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنا ہو اور تین جب پاک فوج یا پاکستان کو گالی دینی ہو- کچھ اور ضمنی علامات بھی ہیں ان لوگوں کی، مثال کے طور پر نظریہ پاکستان سے نفرت، بھارت سے محبت، مذہب کو تمام مسائل کے لئے ذمہ دار ٹھہرانا، مادر پدر آزادی چاہنا- ہر وہ کام جو ہماری روایات کے خلاف ہو صرف وہی روشن خیالی کی نشانی لگنا-
یہاں پر کچھ باتیں واضح کرنا بہت ضروری ہے- لڑکی اور لڑکے کا اپنی پسند سے شادی کرنا اور گھر والوں کا زبردستی نہ کرنا یہ ایک ایسا حق ہے جو اسلام نے ان کو دیا ہے- اگر ہماری معاشرتی روایات میں خرابی ہے تو اس کے لئے مذہب کو ذمہ دار ٹھہرانا درست نہیں- اسی طرح غلط کام کوئی بھی کرے غلط ہے، ضروری نہیں ہے کہ ہماری ہر غلطی کے پیچھے مذہب ہی وجہ ہو، مذہب کی ناکافی سمجھ بھی بعض اوقات وجہ ہو سکتی ہے- آرمی میں بھی بہت غلطیاں ہوں گی، لیکن اچھائیاں بھی تو ہوں گی؟ لبرل حضرات! پاکستان میں سب سے زیادہ تنوع اور مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو برداشت کرنے کی روایت پاک فوج میں ہے- دہشت گردی کے خلاف اصل جنگ فوج ہی لڑ رہی ہے- آپ کو تو جب رواداری کا مطلب بھی نہیں پتا تھا تب سے فوج اس روایت پر عمل پیرا ہے-
اور اب بات ہو جائے اس جنگ کے سب سے بڑے فریق یعنی عوام کی- دہشت گردوں نے پورے ملک میں حملے کئے، لوگوں کو کہا کہ ووٹ نہ ڈالیں، عوام نے کیا کیا؟ پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے ٹرن آوٹ میں سے ایک ملا اس بار- ان عوام نے آج تک ملکی سطح پر کسی ایسی جماعت کو اکثریت نہیں دلائی جو انتہا پسند ہوں، جو مذہب کو استعمال کر کے مذہب کے خلاف اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزی کی بات کریں- ہمارے ہمسایے اور لبرل انتہا پسندوں کے روحانی پیشوا سیکولر بھارت میں ایک نہیں کئی بار بی جے پی جیسی مذھبی انتہا پسند جماعتیں اکثریت بھی لے چکی ہیں اور حکومت بھی بنا چکی ہیں-
ہمارا ملک دو فکری محازوں میں پس رہا ہے- ایک طرف اسلام کا نام استعمال کر کے دهشت گردی کرنے والے، دوسری طرف اسلام کو ہر چیز کے لئے ذمہ دار ٹھہرانے والے- دونوں کا مقصد ایک ہی ہے- اسلام کو بدنام کرنا، اسلام کے اصل پیغام کو مجروح کرنا، ہماری اچھی معاشرتی روایات کو بھی معدوم کرنا، پوری دنیا کے سامنے مسلمانوں کو متشدد ثابت کرنا، پاکستان کو نقصان پہنچانا، بھارت کے سامنے قوم کو احساس کمتری میں مبتلا کرنا، فوج کو کمزور کرنا اور لوگوں کو مذہب سے متنفر کرنا- کتنی حیران کن بات ہے؟ بظاھر دو متضاد سوچیں؟ اور عزایم کتنے مشترکہ؟ آیندہ کسی بھی مذہبی دہشتگرد یا لبرل دہشتگرد کی باتیں سنتے ہوئے ان نکات پر ضرور غور کیجئے گا- کہیں ان دونوں کی اصل ایک ہی تو نہیں؟ ان دونوں کو پیسے اور میڈیا کوریج دینے والے ایک ہی نہیں؟
اب آپ کو بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ایسے لوگ کیا کرتے ہیں، کیوں کرتے ہیں، خود کو کیا سمجھتے ہیں اور در حقیقت کیا ہیں- صرف تین معاملات ہیں جہاں ہمارے لبرلز کی دم کھڑی ہوتی ہے اور وہ اس پر ناچنا شروع کر دیتے ہیں- ایک جب کوئی لڑکی گھر سے بھاگ کر شادی کر لے، دو جب کسی بھٹکے ہوئے مسلمان کے انفرادی عمل کی وجہ سے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنا ہو اور تین جب پاک فوج یا پاکستان کو گالی دینی ہو- کچھ اور ضمنی علامات بھی ہیں ان لوگوں کی، مثال کے طور پر نظریہ پاکستان سے نفرت، بھارت سے محبت، مذہب کو تمام مسائل کے لئے ذمہ دار ٹھہرانا، مادر پدر آزادی چاہنا- ہر وہ کام جو ہماری روایات کے خلاف ہو صرف وہی روشن خیالی کی نشانی لگنا-
یہاں پر کچھ باتیں واضح کرنا بہت ضروری ہے- لڑکی اور لڑکے کا اپنی پسند سے شادی کرنا اور گھر والوں کا زبردستی نہ کرنا یہ ایک ایسا حق ہے جو اسلام نے ان کو دیا ہے- اگر ہماری معاشرتی روایات میں خرابی ہے تو اس کے لئے مذہب کو ذمہ دار ٹھہرانا درست نہیں- اسی طرح غلط کام کوئی بھی کرے غلط ہے، ضروری نہیں ہے کہ ہماری ہر غلطی کے پیچھے مذہب ہی وجہ ہو، مذہب کی ناکافی سمجھ بھی بعض اوقات وجہ ہو سکتی ہے- آرمی میں بھی بہت غلطیاں ہوں گی، لیکن اچھائیاں بھی تو ہوں گی؟ لبرل حضرات! پاکستان میں سب سے زیادہ تنوع اور مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو برداشت کرنے کی روایت پاک فوج میں ہے- دہشت گردی کے خلاف اصل جنگ فوج ہی لڑ رہی ہے- آپ کو تو جب رواداری کا مطلب بھی نہیں پتا تھا تب سے فوج اس روایت پر عمل پیرا ہے-
اور اب بات ہو جائے اس جنگ کے سب سے بڑے فریق یعنی عوام کی- دہشت گردوں نے پورے ملک میں حملے کئے، لوگوں کو کہا کہ ووٹ نہ ڈالیں، عوام نے کیا کیا؟ پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے ٹرن آوٹ میں سے ایک ملا اس بار- ان عوام نے آج تک ملکی سطح پر کسی ایسی جماعت کو اکثریت نہیں دلائی جو انتہا پسند ہوں، جو مذہب کو استعمال کر کے مذہب کے خلاف اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزی کی بات کریں- ہمارے ہمسایے اور لبرل انتہا پسندوں کے روحانی پیشوا سیکولر بھارت میں ایک نہیں کئی بار بی جے پی جیسی مذھبی انتہا پسند جماعتیں اکثریت بھی لے چکی ہیں اور حکومت بھی بنا چکی ہیں-
ہمارا ملک دو فکری محازوں میں پس رہا ہے- ایک طرف اسلام کا نام استعمال کر کے دهشت گردی کرنے والے، دوسری طرف اسلام کو ہر چیز کے لئے ذمہ دار ٹھہرانے والے- دونوں کا مقصد ایک ہی ہے- اسلام کو بدنام کرنا، اسلام کے اصل پیغام کو مجروح کرنا، ہماری اچھی معاشرتی روایات کو بھی معدوم کرنا، پوری دنیا کے سامنے مسلمانوں کو متشدد ثابت کرنا، پاکستان کو نقصان پہنچانا، بھارت کے سامنے قوم کو احساس کمتری میں مبتلا کرنا، فوج کو کمزور کرنا اور لوگوں کو مذہب سے متنفر کرنا- کتنی حیران کن بات ہے؟ بظاھر دو متضاد سوچیں؟ اور عزایم کتنے مشترکہ؟ آیندہ کسی بھی مذہبی دہشتگرد یا لبرل دہشتگرد کی باتیں سنتے ہوئے ان نکات پر ضرور غور کیجئے گا- کہیں ان دونوں کی اصل ایک ہی تو نہیں؟ ان دونوں کو پیسے اور میڈیا کوریج دینے والے ایک ہی نہیں؟
اس کالم کے مخاطب نہ تو مذہب کے نام پر دہشت گردی کرنے والے ہیں اور نہ ہی روشن خیالی کے نام پر- اس کالم کے مخاطب مجھ جیسے، آپ جیسے عوام ہیں- وہ عام لوگ ہیں جو ان لوگوں کے بہکاوے میں آ کر دین کو نقصان پہنچانے پر تل جاتے ہیں- خدا کے لئے تھوڑا سا سوچئے اور سمجھئے، یہ دونوں ایک ہیں، صرف طریقہ کار مختلف ہیں-اور اب اس کالم کی آخری بات پر ذرا غور کیجیے گا اور آئندہ جب بھی یہ آپ کو بہکانے کی کوشش کریں تو ان لوگوں کو یہ بتایئے گا- دین اور لا دینیت کے ٹھیکیداروں سے بڑی عاجزی سے ایک گزارش ہے- میں ایک عام پاکستانی مسلمان ہوں- مذھب کے نام پر معصوم لوگوں کو قتل کرنے والوں سے ہزار گنا زیادہ مذہبی اور ماروی سرمد اور عاصمہ جہانگیر جیسے لبرل لوگوں سے لاکھوں گنا زیادہ روشن خیال ہوں- کیا آپ دونوں ہماری جان چھوڑ سکتے ہیں؟ عین نوازش ہو گی-
پاکستانی لبرل دھشتگرد
12:14 AM
| By
Think-Pk
|
پاکستانی لبرل دھشتگرد
جب بھی بارش ہونے والی ہوتی ہے، ایک پرندہ اڑتا ہے- اس پرندے کو پنجاب میں ٹٹیری کہتے ہیں اور بھی کچھ نام ہیں اس کے- یہ پرندہ رات کو سوتے ہوئے اپنی ٹانگیں اوپر کر کے سوتا ہے- پتا کیوں؟ اسکو لگتا ہے کہ اس نے آسمان سر پر اٹھایا ہوا ہے اگر یہ سو گیا تو آسمان گر پڑے گا- اسی طرح ہمارے ملک میں دہشت گردی اور انتہا پسندی سے لڑنے والا اصل فریق پاکستانی عوام ہیں- لیکن ماروی سرمد، عاصمہ جہانگیر اور ان جیسے باقی خود ساختہ لبرل جو مذہب کا مذاق اڑاتے ہیں انکی فکری ٹانگیں بھی اوپر ہوتی ہیں سوتے ہوئے کیونکہ وہ بھی یہی سمجھتے ہیں کہ انہوں نے انتہا پسندی سے ٹکر لے رکھی ہے- وہ پاکستانی معاشرے میں دھشتگردوں سے لڑ رہے ہیں ایسا لگتا ہے ان کو-
اب آپ کو بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ایسے لوگ کیا کرتے ہیں، کیوں کرتے ہیں، خود کو کیا سمجھتے ہیں اور در حقیقت کیا ہیں- صرف تین معاملات ہیں جہاں ہمارے لبرلز کی دم کھڑی ہوتی ہے اور وہ اس پر ناچنا شروع کر دیتے ہیں- ایک جب کوئی لڑکی گھر سے بھاگ کر شادی کر لے، دو جب کسی بھٹکے ہوئے مسلمان کے انفرادی عمل کی وجہ سے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنا ہو اور تین جب پاک فوج یا پاکستان کو گالی دینی ہو- کچھ اور ضمنی علامات بھی ہیں ان لوگوں کی، مثال کے طور پر نظریہ پاکستان سے نفرت، بھارت سے محبت، مذہب کو تمام مسائل کے لئے ذمہ دار ٹھہرانا، مادر پدر آزادی چاہنا- ہر وہ کام جو ہماری روایات کے خلاف ہو صرف وہی روشن خیالی کی نشانی لگنا-
یہاں پر کچھ باتیں واضح کرنا بہت ضروری ہے- لڑکی اور لڑکے کا اپنی پسند سے شادی کرنا اور گھر والوں کا زبردستی نہ کرنا یہ ایک ایسا حق ہے جو اسلام نے ان کو دیا ہے- اگر ہماری معاشرتی روایات میں خرابی ہے تو اس کے لئے مذہب کو ذمہ دار ٹھہرانا درست نہیں- اسی طرح غلط کام کوئی بھی کرے غلط ہے، ضروری نہیں ہے کہ ہماری ہر غلطی کے پیچھے مذہب ہی وجہ ہو، مذہب کی ناکافی سمجھ بھی بعض اوقات وجہ ہو سکتی ہے- آرمی میں بھی بہت غلطیاں ہوں گی، لیکن اچھائیاں بھی تو ہوں گی؟ لبرل حضرات! پاکستان میں سب سے زیادہ تنوع اور مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو برداشت کرنے کی روایت پاک فوج میں ہے- دہشت گردی کے خلاف اصل جنگ فوج ہی لڑ رہی ہے- آپ کو تو جب رواداری کا مطلب بھی نہیں پتا تھا تب سے فوج اس روایت پر عمل پیرا ہے-
اور اب بات ہو جائے اس جنگ کے سب سے بڑے فریق یعنی عوام کی- دہشت گردوں نے پورے ملک میں حملے کئے، لوگوں کو کہا کہ ووٹ نہ ڈالیں، عوام نے کیا کیا؟ پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے ٹرن آوٹ میں سے ایک ملا اس بار- ان عوام نے آج تک ملکی سطح پر کسی ایسی جماعت کو اکثریت نہیں دلائی جو انتہا پسند ہوں، جو مذہب کو استعمال کر کے مذہب کے خلاف اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزی کی بات کریں- ہمارے ہمسایے اور لبرل انتہا پسندوں کے روحانی پیشوا سیکولر بھارت میں ایک نہیں کئی بار بی جے پی جیسی مذھبی انتہا پسند جماعتیں اکثریت بھی لے چکی ہیں اور حکومت بھی بنا چکی ہیں-
ہمارا ملک دو فکری محازوں میں پس رہا ہے- ایک طرف اسلام کا نام استعمال کر کے دهشت گردی کرنے والے، دوسری طرف اسلام کو ہر چیز کے لئے ذمہ دار ٹھہرانے والے- دونوں کا مقصد ایک ہی ہے- اسلام کو بدنام کرنا، اسلام کے اصل پیغام کو مجروح کرنا، ہماری اچھی معاشرتی روایات کو بھی معدوم کرنا، پوری دنیا کے سامنے مسلمانوں کو متشدد ثابت کرنا، پاکستان کو نقصان پہنچانا، بھارت کے سامنے قوم کو احساس کمتری میں مبتلا کرنا، فوج کو کمزور کرنا اور لوگوں کو مذہب سے متنفر کرنا- کتنی حیران کن بات ہے؟ بظاھر دو متضاد سوچیں؟ اور عزایم کتنے مشترکہ؟ آیندہ کسی بھی مذہبی دہشتگرد یا لبرل دہشتگرد کی باتیں سنتے ہوئے ان نکات پر ضرور غور کیجئے گا- کہیں ان دونوں کی اصل ایک ہی تو نہیں؟ ان دونوں کو پیسے اور میڈیا کوریج دینے والے ایک ہی نہیں؟
اب آپ کو بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ایسے لوگ کیا کرتے ہیں، کیوں کرتے ہیں، خود کو کیا سمجھتے ہیں اور در حقیقت کیا ہیں- صرف تین معاملات ہیں جہاں ہمارے لبرلز کی دم کھڑی ہوتی ہے اور وہ اس پر ناچنا شروع کر دیتے ہیں- ایک جب کوئی لڑکی گھر سے بھاگ کر شادی کر لے، دو جب کسی بھٹکے ہوئے مسلمان کے انفرادی عمل کی وجہ سے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنا ہو اور تین جب پاک فوج یا پاکستان کو گالی دینی ہو- کچھ اور ضمنی علامات بھی ہیں ان لوگوں کی، مثال کے طور پر نظریہ پاکستان سے نفرت، بھارت سے محبت، مذہب کو تمام مسائل کے لئے ذمہ دار ٹھہرانا، مادر پدر آزادی چاہنا- ہر وہ کام جو ہماری روایات کے خلاف ہو صرف وہی روشن خیالی کی نشانی لگنا-
یہاں پر کچھ باتیں واضح کرنا بہت ضروری ہے- لڑکی اور لڑکے کا اپنی پسند سے شادی کرنا اور گھر والوں کا زبردستی نہ کرنا یہ ایک ایسا حق ہے جو اسلام نے ان کو دیا ہے- اگر ہماری معاشرتی روایات میں خرابی ہے تو اس کے لئے مذہب کو ذمہ دار ٹھہرانا درست نہیں- اسی طرح غلط کام کوئی بھی کرے غلط ہے، ضروری نہیں ہے کہ ہماری ہر غلطی کے پیچھے مذہب ہی وجہ ہو، مذہب کی ناکافی سمجھ بھی بعض اوقات وجہ ہو سکتی ہے- آرمی میں بھی بہت غلطیاں ہوں گی، لیکن اچھائیاں بھی تو ہوں گی؟ لبرل حضرات! پاکستان میں سب سے زیادہ تنوع اور مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو برداشت کرنے کی روایت پاک فوج میں ہے- دہشت گردی کے خلاف اصل جنگ فوج ہی لڑ رہی ہے- آپ کو تو جب رواداری کا مطلب بھی نہیں پتا تھا تب سے فوج اس روایت پر عمل پیرا ہے-
اور اب بات ہو جائے اس جنگ کے سب سے بڑے فریق یعنی عوام کی- دہشت گردوں نے پورے ملک میں حملے کئے، لوگوں کو کہا کہ ووٹ نہ ڈالیں، عوام نے کیا کیا؟ پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے ٹرن آوٹ میں سے ایک ملا اس بار- ان عوام نے آج تک ملکی سطح پر کسی ایسی جماعت کو اکثریت نہیں دلائی جو انتہا پسند ہوں، جو مذہب کو استعمال کر کے مذہب کے خلاف اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزی کی بات کریں- ہمارے ہمسایے اور لبرل انتہا پسندوں کے روحانی پیشوا سیکولر بھارت میں ایک نہیں کئی بار بی جے پی جیسی مذھبی انتہا پسند جماعتیں اکثریت بھی لے چکی ہیں اور حکومت بھی بنا چکی ہیں-
ہمارا ملک دو فکری محازوں میں پس رہا ہے- ایک طرف اسلام کا نام استعمال کر کے دهشت گردی کرنے والے، دوسری طرف اسلام کو ہر چیز کے لئے ذمہ دار ٹھہرانے والے- دونوں کا مقصد ایک ہی ہے- اسلام کو بدنام کرنا، اسلام کے اصل پیغام کو مجروح کرنا، ہماری اچھی معاشرتی روایات کو بھی معدوم کرنا، پوری دنیا کے سامنے مسلمانوں کو متشدد ثابت کرنا، پاکستان کو نقصان پہنچانا، بھارت کے سامنے قوم کو احساس کمتری میں مبتلا کرنا، فوج کو کمزور کرنا اور لوگوں کو مذہب سے متنفر کرنا- کتنی حیران کن بات ہے؟ بظاھر دو متضاد سوچیں؟ اور عزایم کتنے مشترکہ؟ آیندہ کسی بھی مذہبی دہشتگرد یا لبرل دہشتگرد کی باتیں سنتے ہوئے ان نکات پر ضرور غور کیجئے گا- کہیں ان دونوں کی اصل ایک ہی تو نہیں؟ ان دونوں کو پیسے اور میڈیا کوریج دینے والے ایک ہی نہیں؟
اس کالم کے مخاطب نہ تو مذہب کے نام پر دہشت گردی کرنے والے ہیں اور نہ ہی روشن خیالی کے نام پر- اس کالم کے مخاطب مجھ جیسے، آپ جیسے عوام ہیں- وہ عام لوگ ہیں جو ان لوگوں کے بہکاوے میں آ کر دین کو نقصان پہنچانے پر تل جاتے ہیں- خدا کے لئے تھوڑا سا سوچئے اور سمجھئے، یہ دونوں ایک ہیں، صرف طریقہ کار مختلف ہیں-اور اب اس کالم کی آخری بات پر ذرا غور کیجیے گا اور آئندہ جب بھی یہ آپ کو بہکانے کی کوشش کریں تو ان لوگوں کو یہ بتایئے گا- دین اور لا دینیت کے ٹھیکیداروں سے بڑی عاجزی سے ایک گزارش ہے- میں ایک عام پاکستانی مسلمان ہوں- مذھب کے نام پر معصوم لوگوں کو قتل کرنے والوں سے ہزار گنا زیادہ مذہبی اور ماروی سرمد اور عاصمہ جہانگیر جیسے لبرل لوگوں سے لاکھوں گنا زیادہ روشن خیال ہوں- کیا آپ دونوں ہماری جان چھوڑ سکتے ہیں؟ عین نوازش ہو گی-
Labels:Manuscripts
Stop Blaming Everything on Nation - حکمرانوں کو ٹھیک کرنے کا طریقہ
4:21 AM
| By
Think-Pk
|
حکمرانوں کو ٹھیک کرنے کا طریقہ
ہماری قوم کے کافی بڑے بڑے سکالرز ایک بات اکثر دوہراتے رہتے ہیں- "جیسے عوام ویسے حکمران"- جب تک عوام ٹھیک نہیں ہوں گے حکمران بھی ٹھیک نہیں ہوں گے- کتنی پیاری بات ہے؟ کتنی گہری بات ہے نا؟ اتنی ہی پیاری ہے یہ بات جتنی ہمارے ملک کی سیاست- افیون کی گولی ہے- زہر کی پڑیا ہے- ظلم ہے اور افسوس ہے کہ کوئی بھی اس پر غور نہیں کرتا، بس اندھا دھند جو کسی نے که دیا اس کے پیچھے لگ جاتے ہیں ہم لوگ- ویسے بھی یہ ہمارے ملک کے بڑوں کے فائدے کی بات ہے- نہ نو من تیل ہو گا نہ رادھا ناچے گی- اور یہ بات کر کہ سارا الزام عوام بیچاری کے سر آ جاتا ہے اور ظالم حکمران معصوم ثابت ہو جاتے ہیں-
مزید سنئے، عوام کو ووٹ دینے کی کوئی ضرورت نہیں، دینا بھی ہے تو جس کو مرضی دے دیں، کوئی فرق نہیں پڑتا، فرق تو تب پڑے گا جب عوام ٹھیک ہو گی- ہے نا؟ حکمران لوٹ مار کریں تو عوام ہی ساری چور ہے، حکمران کام نہ کریں تو عوام ہی ساری نکمی ہے، حکمران دھوکہ دیں، اپنی ہی کہی ہوئی باتوں سے یہ کہ کر مکر جائیں کہ وعدے کوئی قرآن یا حدیث نہیں ہوتے یا یہ که کر کہ جی وہ تو سب جوش خطابت تھا، تب بھی انکا کوئی قصور نہیں، قصوروار اب بھی بیچاری عوام کیونکہ عوام تبدیل ہوں گے تو حکمران خود بخود ٹھیک ہو جائیں گے- ہیں جی؟ ہے نا مزے کی بات؟ کس خوبصورتی سے یہ بات حکمرانوں کو ہر الزام سے بچا کر لے جاتی ہے؟ ایسے جیسے مکھن میں سے بال-
یار لوگ اکثر سناتے ہیں، خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی جسکو خود اپنی حالت کے بدلنے کا خیال نہ ہو- اور یہ بھی کہ انسان کے لئے وہی کچھ ہے جس کے لئے وہ کوشش کرتا ہے- بالکل درست باتیں ہیں- جس قوم کو اپنے حکمران خود بدلنے کا خیال نہ ہو، جو جھوٹے، لٹیروں اور چوروں کو برداشت کرتی رہے، اس کے حکمران کب تبدیل ہوں گے؟ جو انسان کوشش ہی نہیں کرتا تبدیلی کے لئے، اسکے حالات کیسے تبدیل ہوں؟ جو قوم اپنے حکمرانوں کی ہر غلطی کو نظر انداز کرتی جائے یہ که کر کہ جب تک قوم تبدیل نہ ہو کچھ تبدیل نہیں ہو سکتا، وہاں کچھ کیسے ٹھیک ہو گا؟ میرے بھائی اگر قوم کو اپنے حکمران ایماندار، سچے اور قابل لوگ منتخب کرنے کا خیال آ جائے تو یہ بیچاری قوم تبدیل ہی تو ہو رہی ہے- اب آپ کو یہ بتانے کی کوشش کرتا ہوں کہ حکمران کا درست ہونا کیوں ضروری ہے-
فرض کریں ایک یونیورسٹی ہے، اس کے وائس چانسلر صاحب سائیکل پر پوری یونیورسٹی میں گھومنا پھرنا شروع کر دیں تو کیا ہو گا؟ سب پروفیسر صاحبان بھی سائیکل چلانا شروع کر دیں گے، ان کی دیکھا دیکھی سب طلبہ بھی- پھر لوگ دس میٹر کے فاصلے پر بھی گاڑی پر جانا بند کر دیں گے- سائیکل چلاتے ہوئے شرم آنا بند ہو جائے گی، صحت بھی بہتر ہوگی، آلودگی بھی کم اور پٹرول کی بھی بچت- فرض کریں ملک کا وزیر اعظم سادہ شلوار قمیض میں بغیر کسی پروٹوکول کے آتا جاتا نظر آۓ تو کیا کسی وزیر کی جرات ہو گی کہ وہ پروٹوکول کے مزے لے؟ یا کسی بھی سرکاری ملازم کی؟ مزید سوچیے، امریکا جیسا ملک، ہر گناہ عام، پھر بھی انکے صدر کو عدالت میں پیش ہونا پڑا قوم سے جھوٹ بولنے پر حالانکہ انکی پوری قوم وہی کام کھلے عام کرتی ہے، جی ہاں بل کلنٹن اور مونیکا لیونسکی کی بات ہو رہی ہے- سی آئی اے جیسی ایجنسی کا سربراہ اسکو وہ کرنے پر مستعفی ہونا پڑے جو انکی قوم میں ایک عام بات ہے- کیوں؟ اس لئے کہ حکمران مثال ہوتے ہیں عوام کے لئے، نمونہ ہوتے ہیں، رول ماڈل ہوتے ہیں، انکا اچھا ہونا قوم کے اچھا ہونے سے بھی زیادہ ضروری ہوتا ہے-
اور اب سب سے آخری بات جس کے بعد شاید کسی اور مثال کی ضرورت نہ پڑے، میرے پیارے نبی صل الله الیہ واسلم نے جب مکہ میں دعوت اسلام کا کام شروع کیا تھا تو کتنے مسلمان تھے وہاں؟ انہوں نے تو قوم کے تبدیل ہونے کا انتظار نہیں کیا، انہوں نے تو یہ نہیں کہا کہ جیسی قوم ویسے حکمران، انھوں نے اپنے کردار، ایمانداری، صداقت، جذبے، الله کی مدد اور ایمان کی طاقت سے عرب وحشیوں کو انسان بنا دیا-
آج ہمیں ایک ایسے لیڈر کی ضرورت ہے جو قوم کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو، جو سٹیٹس کو کا محافظ نہ ہو، جو لوگوں کی زندگیاں بدل دے، انھیں ٹرانسفارم کر دے، اور قوم کو کیا کرنا چاہیے؟ "جب تک قوم تبدیل نہیں ہو گی، کچھ تبدیل نہیں ہوگا" کا راگ الاپنا چھوڑ کر ایسے لیڈر کا ساتھ دینا چاہیے- ایسے لیڈر جو لوگوں کو تبدیل کر دیں قوموں کو صدیوں میں ملتے ہیں، خوش قسمت ہوتی ہیں وہ قومیں جو ان سے فائدہ اٹھا لیں اور بد قسمت ہوتی ہیں وہ قومیں جو انھیں کھو دیں- میں کسی کا نام نہیں لوں گا، اپنے آس پاس دیکھیں، کوئی ایسا لیڈر ہے جس نے قوم میں تبدیلی کی روح پھونک دی ہو؟ جس نے ان لوگوں کو سیاست میں دلچسپی لینے پر مجبور کر دیا ہو جو سیاست کے نام سے چڑتے تھے؟ ہے کوئی ایسا لیڈر آج آپ کے پاس جس نے لوگوں کو اردو میں لکھنے کے لئے گوگل ٹرانسلیٹر استعمال کر کے، اپنی سرکاری نوکری خطرے میں ڈال کر سیاست پر کالم لکھنے پر مجبور کر دیا ہو؟ اگر ہے ایسا کوئی تو اس کو ضایع مت ہونے دیجئے گا- اسکی مدد کریں اور اپنی آئندہ آنے والی نسلوں پر احسان کیجیے- بھرتی کے لیڈرز اور ٹھیکیداروں سے جان چھڑوا لیجئے- لیڈر اور مینیجر کے فرق کو سمجھیں- الله ہمیں دیکھنے والی آنکھ اور سمجھنے والا دماغ عطا فرمائے- آمین-
مزید سنئے، عوام کو ووٹ دینے کی کوئی ضرورت نہیں، دینا بھی ہے تو جس کو مرضی دے دیں، کوئی فرق نہیں پڑتا، فرق تو تب پڑے گا جب عوام ٹھیک ہو گی- ہے نا؟ حکمران لوٹ مار کریں تو عوام ہی ساری چور ہے، حکمران کام نہ کریں تو عوام ہی ساری نکمی ہے، حکمران دھوکہ دیں، اپنی ہی کہی ہوئی باتوں سے یہ کہ کر مکر جائیں کہ وعدے کوئی قرآن یا حدیث نہیں ہوتے یا یہ که کر کہ جی وہ تو سب جوش خطابت تھا، تب بھی انکا کوئی قصور نہیں، قصوروار اب بھی بیچاری عوام کیونکہ عوام تبدیل ہوں گے تو حکمران خود بخود ٹھیک ہو جائیں گے- ہیں جی؟ ہے نا مزے کی بات؟ کس خوبصورتی سے یہ بات حکمرانوں کو ہر الزام سے بچا کر لے جاتی ہے؟ ایسے جیسے مکھن میں سے بال-
یار لوگ اکثر سناتے ہیں، خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی جسکو خود اپنی حالت کے بدلنے کا خیال نہ ہو- اور یہ بھی کہ انسان کے لئے وہی کچھ ہے جس کے لئے وہ کوشش کرتا ہے- بالکل درست باتیں ہیں- جس قوم کو اپنے حکمران خود بدلنے کا خیال نہ ہو، جو جھوٹے، لٹیروں اور چوروں کو برداشت کرتی رہے، اس کے حکمران کب تبدیل ہوں گے؟ جو انسان کوشش ہی نہیں کرتا تبدیلی کے لئے، اسکے حالات کیسے تبدیل ہوں؟ جو قوم اپنے حکمرانوں کی ہر غلطی کو نظر انداز کرتی جائے یہ که کر کہ جب تک قوم تبدیل نہ ہو کچھ تبدیل نہیں ہو سکتا، وہاں کچھ کیسے ٹھیک ہو گا؟ میرے بھائی اگر قوم کو اپنے حکمران ایماندار، سچے اور قابل لوگ منتخب کرنے کا خیال آ جائے تو یہ بیچاری قوم تبدیل ہی تو ہو رہی ہے- اب آپ کو یہ بتانے کی کوشش کرتا ہوں کہ حکمران کا درست ہونا کیوں ضروری ہے-
اور اب سب سے آخری بات جس کے بعد شاید کسی اور مثال کی ضرورت نہ پڑے، میرے پیارے نبی صل الله الیہ واسلم نے جب مکہ میں دعوت اسلام کا کام شروع کیا تھا تو کتنے مسلمان تھے وہاں؟ انہوں نے تو قوم کے تبدیل ہونے کا انتظار نہیں کیا، انہوں نے تو یہ نہیں کہا کہ جیسی قوم ویسے حکمران، انھوں نے اپنے کردار، ایمانداری، صداقت، جذبے، الله کی مدد اور ایمان کی طاقت سے عرب وحشیوں کو انسان بنا دیا-
آج ہمیں ایک ایسے لیڈر کی ضرورت ہے جو قوم کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو، جو سٹیٹس کو کا محافظ نہ ہو، جو لوگوں کی زندگیاں بدل دے، انھیں ٹرانسفارم کر دے، اور قوم کو کیا کرنا چاہیے؟ "جب تک قوم تبدیل نہیں ہو گی، کچھ تبدیل نہیں ہوگا" کا راگ الاپنا چھوڑ کر ایسے لیڈر کا ساتھ دینا چاہیے- ایسے لیڈر جو لوگوں کو تبدیل کر دیں قوموں کو صدیوں میں ملتے ہیں، خوش قسمت ہوتی ہیں وہ قومیں جو ان سے فائدہ اٹھا لیں اور بد قسمت ہوتی ہیں وہ قومیں جو انھیں کھو دیں- میں کسی کا نام نہیں لوں گا، اپنے آس پاس دیکھیں، کوئی ایسا لیڈر ہے جس نے قوم میں تبدیلی کی روح پھونک دی ہو؟ جس نے ان لوگوں کو سیاست میں دلچسپی لینے پر مجبور کر دیا ہو جو سیاست کے نام سے چڑتے تھے؟ ہے کوئی ایسا لیڈر آج آپ کے پاس جس نے لوگوں کو اردو میں لکھنے کے لئے گوگل ٹرانسلیٹر استعمال کر کے، اپنی سرکاری نوکری خطرے میں ڈال کر سیاست پر کالم لکھنے پر مجبور کر دیا ہو؟ اگر ہے ایسا کوئی تو اس کو ضایع مت ہونے دیجئے گا- اسکی مدد کریں اور اپنی آئندہ آنے والی نسلوں پر احسان کیجیے- بھرتی کے لیڈرز اور ٹھیکیداروں سے جان چھڑوا لیجئے- لیڈر اور مینیجر کے فرق کو سمجھیں- الله ہمیں دیکھنے والی آنکھ اور سمجھنے والا دماغ عطا فرمائے- آمین-
I may be contacted at waqaraq@gmail.com
Subscribe to:
Posts
(Atom)
Total Pageviews
Popular Posts
-
-
-
SC, EC & Noon League one league Facts] by RohailAsghari






















